کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) پاکستان اس وقت جس بحران سے گزر رہا ہے اس صورتحال میں قومی اتحاد و یگانگت کی ضرورت ہے فساد کی نہیں۔ پاکستان کو امن وسلامتی کی ضرورت ہے انتشار اور بدامنی کی نہیں۔موجودہ ملکی حالات میں پاکستان کسی سیاسی انتشار اور بدامنی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ان خیالات کا اظہار بلوچستان عوامی پارٹی کی نائب صدر سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اپنے ایک اخباری بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں انتظامی، سیاسی اور معاشی صورتحال ابتر ہے۔دنیا بھر کی نظریں پاکستان کی موجودہ صورتحال پر ہیں اور جوسیاسی ایڈونچرز اور مہم جوئی کا کھیل چل رہا ہے اسے فوری طور پر بند ہونا چاہئے اورجہاں تک ملک میں نئے انتخابات کی بات ہے تو ملک کی سالمیت اور مفاد کی خاطر تمام اسٹیک ہولڈرزکو مل بیٹھ کر گرینڈ ڈائیلاگ کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی وقت میں ہونے چاہئیں۔ حکومت اور اپوزیشن مل بیٹھ کر ملک کے لئے بہتر فیصلے کریں۔اپنے ذاتی اور پارٹی مفادات کو چھوڑ کر آئین کی پاسداری کی جائے کیونکہ آئین کی حکمرانی اور بالادستی ہی ملکی استحکام کی ضامن ہے۔ پولرائزیشن کا سیاست کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں تک پہنچ جانا ملک کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ ختلاف برائے اختلاف کو چھوڑ کر اختلاف برائے اصلاح کی سیاست کی جائے نہ کہ کسی بھی بات کو اپنی انا کا مسئلہ بنا کر ملک کو داؤ پر لگا دیا جائے۔ حکومت اور اپوزیشن سمیت تمام اداروں کو بھی اپنی انتہائی پوزیشنز سے پیچھے ہٹنا چاہئے۔ موجودہ مسائل کا حل صرف ڈائیلاگ میں ہی ہے۔ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر تمام مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔حکومت اور اپوزیشن کے منتخب ارکان ایک میز پر بیٹھیں اور ملکی مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی وقت میں ہونے چاہئیں۔ ملکی معاشی صورتحال بار بار انتخابات کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات کہتے ہوئے انتہائی دکھ محسوس ہوتا ہے کہ بدقسمتی سے خوشحال پاکستان ہمارے ہاتھوں سے نکلتا جارہا۔ حالات مشکل ہو چکے ہیں اور مزید مشکل ہوتے جارہے ہیں۔ لوگ تذبذب کا شکار ہیں اور غریب اور متوسط طبقے کے مسائل دن بدن بڑھتے جارہے ہیں۔ سفید پوش لوگوں کے لئے زندگی گزارنا مشکل ترین ہو چکا ہے۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ ملکی سلامتی کی خاطر تمام اسٹیک ہولڈرز جن میں حکومت، اپوزیشن اور تمام ادارے شامل ہیں، سب کو اپنا اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے سب سے اہم آئین کی حکمرانی اور پاسداری ہے جس پر سب کو عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کو مذاق اور موم کی ناک نہ سمجھا جائے کہ جس کا جو دل کرے اپنے حساب سے موڑلے۔تمام سیاسی پارٹیوں کو بھی چاہئے کہ اپنے منشور پر عمل پیرا ہوں اور صحیح معنوں میں اس پر عمل کریں۔ موجودہ ملکی صورتحال میں سیاسی لڑائی، سیاسی دشمنی کی صورت اختیار کرتی محسوس ہو رہی ہے۔ محاذ آرائی اور ٹکراؤ کی پالیسی بالکل بھی ملکی مفاد میں نہیں۔ اگر سیاسی پارٹیاں اور ادارے ملک کے ساتھ مخلص ہیں تو سب کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے اور ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔اگر آگے بڑھنا ہے تو مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ حالیہ بحران سیاسی، معاشی، سیکیورٹی کا نہیں بلکہ بدقسمتی سے ریاستی بحران کی شکل اختیار کر تا جارہاہے جو ملک کے لئے انتہائی خطرناک صورتحال ہے اور ملک اس صورتحال کا کسی بھی طرح متحمل نہیں ہو سکتا۔
آئین کی حکمرانی اور بالادستی ہی ملکی استحکام کی ضامن ہے ، سینیٹر ثمینہ زہری

ٹیگز:
سینیٹر ثمینہ زہری
