کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما اور کارکن قومی ارمانوں کی تکمیل کیلئے دن رات محنت کررہے ہیں۔ ہم سیاست کی آڑ میں ذاتی اور خاندانی مفادات کے حصول، پراپرٹیز بنانے اور اسکا کاروہار کرنے،کرپشن کے ذزریعے دولت اور جائیدادیں بنانے، اختیارات کے ناجائز استعمال اور جعلی دستخطوں کے ذریعے سرکاری املاک کو الاٹ کرنے جیسے اقدامات کوگناہ کبیرہ سمجھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ، مرکزی سیکرٹری حاجی اعظم مسیزئی، صوبائی صدر ایم پی اے نصراللہ خان زیرے، صوبا ئی سیکریٹری اطلاعات زمان خان کاکڑ، صوبائی ڈپٹی سیکریٹریز فیاض احمد، عبیداللہ توخی اور عنایت اچکزئی نے تختانی بائی پاس علاقائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی تختانی بائی پاس علاقائی کانفرنس پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ کی صدارت میں منعقد ہوا تلاوت کی سعادت حافظ سلام بڑیچ نے حاصل کی اور سٹیج سیکریٹری کے فرائض صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز ندا سنگر اور رحمت صابر نے ادا کیے۔ اس کانفرنس میں 1300 سے زائد مندوبین نے شرکت کی ،سیاسی اور تنظیمی رپورٹ علاقائی سیکرٹری حمداللہ بڑیچ نے پیش کی اور ساتھ ہی انہوں نے علاقے میں ایم پی اے نصراللہ خان زیرے کی جانب سے کیے گئے ترقیاتی کاموں کی تفصیل بیان کی۔ کانفرنس میں تختانی بائی پاس علاقائی یونٹ کو دو حصوں یعنی تختانی اول اور تختانی دوئم میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس موقع پر انتخابات عمل میں لائے گئے جس میں تختانی بائی پاس اول کے سیکریٹری امین اللہ کاکڑ، سینئر معاون سیکریٹری حاجی امان اللہ بارکزئی تختانی بائی پاس دوئم کے سیکریٹری حمداللہ بڑیچ اور سینئر معاون سیکریٹری محمد نور ملاخیل منتخب ہوئے جبکہ اس کے ساتھ پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے علاقائی یونٹ کا بھی انتخاب کیا گیا جس کے مطابق شیر خان علاقائی سیکریٹری اور احسان اللہ سینئر معاون منتخب ہوئے۔ پارٹی کے نومنتخب علاقائی ایگزیکیٹوز سے پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے حلف لیا جبکہ پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے نو منتخب علاقائی ایگزیکیٹیوز سے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے حلف لیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ کہ ہمارے جدوجہد کا محور قومی آزادی، اپنے وسائل پر اختیار اور پشتونخوا وطن سے ہر قسم کی دہشتگردی کا خاتمہ اور قوم کو ایک خوشحال مستقبل سے ہمکنار کرناہے اور ان جیسے تمام مقاصد کا حصول سیاست کرنے کے زریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنیسیا سی اکابرین کی طرح سیا ست کو عبادت سمجھتے ہیں اور ہر قسم کے مفادات سے بالاتر ہوکر قومی شہیدوں اور مبارزین کے ارمانوں کی تکمیل کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں اور ہم سیاست کے زریعے عوام کے مسائل اور مشکلات کو حل کرنے کی راہ میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے اور اپنے عوام کو کسی صورت مایوس نہیں کرینگے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے وطن میں بیش بہا وسائل موجود ہے اور یہ ہماری ضروریات سے کئی گنا زیادہ ہے لیکن قومی غلامی اور اپنے وسائل پر اختیار نہ ہونے کی وجہ سیہمیں غربت اور پسماندگی کا سامنا ہے اور ہماری قومی حالت اور اجتماعی زندگی ہر گزرنے والے دن کے ساتھ مزید ابتری کی طرف گامزن ہے۔ اس حالت کو بدلنے کیلئے جب تک ہم اپنے عوام میں سیاسی شعور پیدا کرنے، انکو سیاست میں فعال کردار ادا کرنے اور پارٹی میں شامل کرکے منظم نہیں کرتے اس وقت تک مسائل اور مشکلات سے نجات ممکن نہیں اور یہ سب ایک منظم تنظیم ہی کی بدولت ممکن ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ ہم تنظیمی اہمیت اور افادیت کو سمجھے اور اپنی قوم کو قومی آزادی اور ایک اسودہ اور خوشحال مستقبل سے ہمکنار کرنے کیلئے فعال کردار ادا کرے۔ نصراللہ خان زیرے نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاست کو کاروبار بنانے، خاندانی اور ذاتی مفادات حاصل کرنے، اقربا پروری کرنے، اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے میٹروپولیٹن کارپوریشن کے جائیدادوں کو الاٹ کرنے، کرپشن کیپیسوں کے زریعیدولت اور جائیدادیں بنانے والے عوام اور پارٹی کے مخلص کارکنوں کو محض اخباری بیانات اور تقریروں کے زریعے دھوکہ نہیں دے سکتے۔ ہمارے باشعور عوام اور باضمیر سیاسی کارکنوں کو انکے ماضی اور حال کا اچھی طرح معلوم ہیں کہ آج کروڑوں روپوں کے دولت اورجائیداد کے مالک کیسے بن گئے۔ ایک بات حتمی ہے کہ ان تمام منفی، مصنوعی اور نام نہاد عناصر کواحتساب سے بچنے، پارٹی کے حقیقی بیانیے سیروگردانی کرنے، پارٹی آئین کو پاوں تھلے روندنے، پارٹی اداروں کو مفلوج کرنے،پارٹی کے مخلص رہنماوں کی کردارکشی کرنے، ذاتی فیصلے مسلط کرنے اور ذاتی انا اور تکبر میں پشتونخوا جیسے منظم پارٹی کو دولخت کرنے کی پاداش میں جواب دہ ہونا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ غداری کے فتوے لگانے والے نے اپنے سیاسی نااہلی اوراحتساب کے خوف سے پشتونخوا جیسے منظم پارٹی کومفلوج اور دولخت کرنے میں انتہائی اہم رول اداکیا اور ہمیشہ پارٹی کے مخلص کارکنوں اندھیرے میں رکھا اور دروغ گوئی پر مبنی موقف اپناکر منفی کہانیاں گھڑنے اور پشتون قومی تحریک سے منسلک جان نثار، ایمانداراور معصوم سیاسی کارکنوں کو ذاتی مخاصمت، دشمنی، منفی رویے اور منفی طرز عمل کی راہ پر متعین کرکے انہیں غیر سیاسی پن میں مبتلا کرنے کی سازشیں کی جو پشتون دشمن قوتوں کی تائید و حمایت کے مترادف ہے اور یہ رویہ اور طرز عمل قابل مذمت ہے اور وہ دن دور نہیں کہ ہمارے غیور اور باشعور سیاسی کارکن اور عوام منفی کردار کے حامل ان افراد کو مسترد کردینگے۔
کارکن قومی ارمانوں کی تکمیل کیلئے دن رات محنت کررہے ہیں،خوشحال خان کاکڑ

ٹیگز:
خوشحال خان کاکڑ
