کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)جماعت اسلامی پاکستان کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاہے کہ ظالموں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اشرافیہ جمہوریہ پاکستان بنایاہے پاکستان کو جاگیر اور عوام کو غلام بنایاہے ہم یہ غلامی قطعاََ نہیں مانتے، بلوچستان چند سرداروں یا نوابوں کی سرزمین نہیں ہے ہر بلوچ اس سرزمین کا وارث اور مالک ہے،عوام کے پاس روٹی نہیں،پاؤں میں چپل نہیں،تعلیم اور صحت کی سہولیات نہیں لیکن پھر بھی انہیں تحفظ حاصل نہ ہی انصاف،27فروری کو چیف سیکرٹری بلوچستان اور آئی جی پولیس کو سینیٹ کی اسٹیڈنگ کمیٹی برائے داخلہ میں طلب کیاہے جن سے ایک ایک ظلم کا حساب لیاجائے گایہ ایف آئی آر وزیراعلیٰ بلوچستان،چیف سیکرٹری،آئی جی پولیس،متعلقہ ڈی آئی جی،کمشنر،ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کے خلاف درج کی جائیں یہ بھی اس قتل میں ملوث شریک ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہاکہ بلوچستان چند سرداروں یا نوابوں کی سرزمین نہیں ہے ہر بلوچ اس سرزمین کا وارث اور مالک ہے ہم کسی کے ذاتی دشمن نہیں نہ دشمنی چاہتے ہیں بلوچستان کو اللہ تعالیٰ نے تمام نعمتوں سے نوازا ہے لیکن یہاں کے باشندے آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں،دستور پاکستان کے مطابق ہمیں مکمل آزادی حاصل ہے،کسی کو لاپتہ یا غائب نہیں کیاجاسکتابدقسمتی سے ہم آئین پاکستان کومانتے ہیں جبکہ مقتدرہ نہیں مانتی دفاعی بجٹ 3ہزار ارب روپے ہے جو پولیس،عدلیہ اور فوج کو دی جاتی ہے تاکہ عوام محفوظ ہوں،جس کے پاس روٹی نہیں،پاؤں میں چپل نہیں،تعلیم اور صحت کی سہولیات نہیں لیکن پھر بھی انہیں تحفظ حاصل نہ ہی انصاف،انہوں نے دریافت کیاکہ ریٹائرڈ ججز کی تنخواہ میں ٹیکس نہیں کٹ رہا کیا چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس بلوچستان کو سانحہ بارکھان پر عوام کی چیخ وپکار سنائی نہیں دیتی،مراعات ہی انصاف کی فراہمی کے نام پر لے رہے ہیں لیکن انصاف نہیں دیاجاتا،انہوں نے کہاکہ پاکستان میں سرکاری آفیسران اقوام متحدہ سے 12فیصد زیادہ تنخواہیں لیتے ہیں یہ غریب قوم کے آفیسران ہے خان محمد مری کے بچے چار سال سے دربدر ہے ان کوانصاف نہیں ملا،غریب قوم کے پیسوں سے تنخواہیں لیکر ایوانوں میں بے حس حکمران بیٹھے ہیں ظالموں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اشرافیہ جمہوریہ پاکستان بنایاہے پاکستان کو جاگیر اور عوام کو غلام بنایاہے ہم یہ غلامی قطعاََ نہیں مانتے،بلوچستان مظلوم ہے یہاں ایک شاہراہ موت ہے اس شاہراہ موت پر جتنے لوگ لقمہ اجل بنے ہیں اتنے دھماکوں میں بھی نہیں مرے انہوں نے کہاکہ خاتون گراں ناز کی ویڈیو کو دنیا کے لوگوں نے دیکھا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی بارکھان واقعہ کا ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے بازیاب بچوں کوکہاں سے بازیاب کرایاہے،27فروری کو چیف سیکرٹری بلوچستان اور آئی جی پولیس کو سینیٹ کی اسٹیڈنگ کمیٹی برائے داخلہ میں طلب کیاہے جن سے ایک ایک ظلم کا حساب لیاجائے گا،جو لاشیں ملی ہے اور مسخ کی گئی ہے وہ ایف آئی آر قاتل کے خلاف کیوں درج نہیں ہوئی ہے؟ یہ ایف آئی آر وزیراعلیٰ بلوچستان،چیف سیکرٹری،آئی جی پولیس،متعلقہ ڈی آئی جی،کمشنر،ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کے خلاف درج کی جائیں یہ بھی اس قتل میں ملوث شریک ہیں انہوں نے کہاکہ بلوچ روایات بھول چکے ہوں سانحہ بارکھان انتہائی قابل مذمت ہے لواحقین کے تمام جائز ودستوری مطالبات تسلیم کرکے اس پر عملدرآمدکرایاجائے۔
بلوچستان چند سرداروں یا نوابوں کی سرزمین نہیں، ہر بلوچ اس سرزمین کا وارث اور مالک ہے،سینیٹرمشتاق احمد

ٹیگز:
سینیٹرمشتاق احمد
