لاہور(ڈیلی گرین گوادر) چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بری طرح تباہ ہو چکی ہے۔وائس آف امریکا کو انٹریو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان تاریخ کے بدترین معاشی اور سیاسی بحران سے گزر رہا ہے۔ عوام کی منتخب کردہ حکومت کے پاس ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اختیار بھی ہونا چاہئے، ان دونوں کو علیحدہ نہیں رکھا جا سکتا۔
عمران خان نے کہا کہ جنرل باجوہ اور ہمارے درمیان مسائل تب پیدا ہوئے جب انہوں نے ملک کے چند بڑے مجرموں کی حمایت کی، جنرل باجوہ چاہتے تھے کہ ہم ان چوروں کی کرپشن معاف کر کے ان کے ساتھ مل کر کام کریں۔ جنرل باجوہ کے شہباز شریف سے قریبی تعلقات تھے جس کے نتیجے میں رجیم چینج آپریشن کیلئے راہ ہموار ہوئی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ الیکشن کمیشن کی ساکھ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، اس صورت میں شفاف انتخابات کا انعقاد ناممکن ہے۔ سندھ کے بلدیاتی انتخابات کو تمام سیاسی جماعتوں نے مسترد کیا۔ ایک سوال کے جواب پر ان کا کہنا تھا کہ ہم اس وقت دہشت گردی کے خلاف ایک اور جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہمارے وزیر خارجہ نے اپنا سارا وقت بیرونی دوروں پر صَرف کیا لیکن افغانستان کا ایک بھی دورہ نہیں کیا۔

