کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) 5 فروری کا دن کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی اور حق خود ارادیت کے عزم کا دن ہے۔کل پانچ فروری کو روایتی جوش و جذبہ کیساتھ پاکستانی اور کشمیری قوم یوم یکجہتی کشمیر منائیں گے۔خطے کا امن کشمیر کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور اقوام متحدہ کی قرارداد وں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل ہونا چاہیے۔بھارتی تسلط سے مکمل آزادی تک جدوجہدآزادی کشمیر کو ہرصورت میں جاری رکھا جائے گا۔ اقوام متحد سلامتی کونسل کی کشمیری عوام کے حق میں منظور کی گئی قرارداد پر عملدرآمد کرائے جس میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کے ذریعے کشمیریوں کو اپنے مستقبل کافیصلہ خود کرنے کا موقع دینے کے حق کو تسلیم کیاگیا تھا۔ان خیالات کا اظہار سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے 5 فروری یوم یکجہتی کشمیرپرمظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی تقریبات کی تیاریوں کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ دن منانے کا مقصد عالمی برادری کو اس بات کی یاد دہانی کرانا ہے کہ سات دہائیوں سے زائدعرصہ گزرجانے کے باوجود جموں وکشمیر کے بارے میں اقوا م متحدہ کی قرارداد وں پر عملدرآمد نہیں ہواہے۔انہوں نے کہا کہ5 فروری کا دن کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی اور حق خود ارادیت کے عزم کا دن ہے۔ عالمی برادری کو تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی جدوجہد کو کچلنے کیلئے بھارتی سازشیں اور ہتھکنڈے ناکام ہو چکے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی قابض افواج نہتے کشمیری نوجوانوں کو نام نہاد سرچ آپریشنز اور جھوٹے مقابلوں میں شہید کررہی ہے، مقبوضہ کشمیر کی عوام بھارت کی ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کررہی ہے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے تمام سفاکانہ اقدامات کو بے نقاب کیا اور آئندہ بھی کشمیریوں کے خلاف بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے لاتا رہے گا۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ کشمیری عوام حق خود ارادیت سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔پاکستان نے دنیا کے ہر فورم پر کشمیریوں کی آواز بھرپور انداز میں اٹھائی ہے۔دنیا کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر ایک بڑا تنازعہ ہے جسے حل نہ کیا گیا تویہ مسئلہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔اس قراردادکو متفقہ طورپر اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انڈیا اور پاکستان نے منظور کیا تھا۔آج 75برس گرنے کے بعدبھی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمدنہیں کیا جاسکا ہے۔فسطائی بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیرمیں نہتے کشمیریوں کو محکوم بنانے کیلئے ظلم و تشدد کا نشانہ بنانے کیلئے فوجی اسٹیبلشمنٹ، خفیہ ایجنسیوں را، آئی بی اور این آئی اے کواستعمال کر رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی سنگین ہے،کشمیری آج بھی بھارتی قابض افواج کی بدترین ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اقوام متحد ہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ تنازعہ کشمیرکے حل کیلئے اقوام متحد کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے اور کشمیریوں کو بھارتی جبر وا ستبداد سے نجات دلائے ورنہ سلگتے کشمیر سے پھیلنے والی آگ سارے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
کشمیری عوام حق خود ارادیت سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے،سینیٹر ثمینہ زہری

ٹیگز:
سینیٹر ثمینہ زہری
