کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان حکومت نے مالی بحران کے باعث وفاق سے واجب الادا رقم نہ ملنے پر احتجاج کی دھمکی دے دی۔بلوچستان میں مالی بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جس پر بلوچستان حکومت نے وفاق سے واجب الادا 50 ارب روپے مانگ لئے ہیں۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی یقین دہانی پر صوبائی حکومت نے چند روز انتظار کے بعد ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کی دھمکی دے دی۔صوبائی وزیر خزانہ انجینئرزمرک خان اچکزئی نے یو این اے سے گفتگو کے دوران کہا کہ صوبائی حکومت یقین دہانی پوری نہ ہونے پر لائحہ عمل دے گی، اگلے ہفتے قسط نہ ملی تو اسلام آباد میں مظاہرہ کریں گے۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان اس وقت مشکل میں ہے، وفاق فوری مدد کرے، خیرات نہیں بلکہ اپنا حق مانگ ہے ہیں، اگر 75 ارب روپے کے بقایا جات مل جائیں تو بحران ختم ہوسکتا ہے18 ویں ترمیم کے بعد صوبے کو اختیار حاصل ہے، ہم ایک روایتی لوگ ہیں ہم آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی بھی چاہتے ہیں ہم جمہوری لوگ ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہم وفاق کو کمزور کرنے کی کوشش کریں۔ہم وفاق کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ اکائیاں مضبوط ہوں گی تب وفاق بھی مضبوط ہوگا۔ اگر ایک اکائی ایک بھی کمزور ہوگی تو آپ کی فیڈریشن بھی کمزور ہو جائے گی۔صوبائی وزیر زمرک اچکزئی کے مطابق پیسے نہ ملنے کی وجہ سے صوبے کی ترقی بالکل رک گئی ہے اور کسی چیز پر توجہ نہیں دے سک رہے۔انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے600 ارب روپے کے سالانہ بجٹ میں 380 ارب روپے تنخواہوں، پنشن اور غیرسرکاری اخراجات پر خرچ ہوتے ہیں۔ باقی 192 ارب روپے کے لگ بھگ ترقیاتی بجٹ ہے، بجٹ میں پہلے سے 80 ارب روپے کا خسارہ ہے۔بلوچستان میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، ہر شعبہ متاثر ہوا، نصیرآباد ڈویژن مکمل ڈوب گیا۔ لوگوں کی امداد اور بحالی کے کاموں پر خطیر رقم خرچ ہونے کی وجہ سے صوبے پر مالی بوجھ بڑھ گیا۔ دوسری جانب وفاق سے نیشنل فنانس کمیشن کے تحت مختص9.9 فیصد حصے میں سے کٹوتی کی جا رہی ہے۔صوبائی وزیر زمرک اچکزئی کا کہنا تھا کہ ہم خیرات نہیں مانگ رہے، اپنا جائز حق مانگ رہے ہیں جو آئین و قانون نے ہمیں دیا ہوا ہے جبکہ این ایف سی کے حصے میں سے بار بار کٹوتیاں ہورہی ہیں۔اگر ایک ارب روپے حصہ بنتا ہے تو 70 یا 80 کروڑ روپے بھیجتے ہیں اور کہتے ہیں کہ باقی بعد میں بھیجیں گے، کیوں؟ ہمیں اپنی قسط چاہیے ہمارا اپنا حصہ چاہیے۔صوبائی وزیر خزانہ کے مطابق پچھلے سال کے این ایف سی میں سے بلوچستان کو اپنے حصے سے11 ارب اور رواں مالی سال میں اب تک 27 سے30 ارب روپے سے کم ملے ہیں۔ اسی طرح وفاقی حکومت کے اعلان کردہ منصوبوں پر بلوچستان حکومت نے پانچ سے چھ ارب روپے خرچ کیے وہ رقم بھی اب تک واپس نہیں ملی۔سیلاب متاثرین کے لیے بیرون ملک سے آنے والی امداد میں بلوچستان کو نظر انداز کیا گیا، وفاق نے ہمیں کچھ نہیں دیا۔ جون سے لے کر اب تک مسلم اور یورپی ممالک اور عالمی اداروں نے جتنی مدد کی، ریکارڈ اٹھالیں میں دعوے سے کہتا ہوں بلوچستان کو ایک روپیہ نہیں ملا۔
بلوچستان میں مالی بحران ؛ صوبائی حکومت نے احتجاج کی دھمکی دیدی

ٹیگز:
صوبائی حکومت
