کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے صدر حاجی عبداللہ اچکزئی،سنیئر نائب صدر حاجی آغا گل خلجی اور نائب صدر سید عبدالاحد آغا نے بلوچستان میں آٹا کے سنگین ہوتے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے صوبائی حکومت اور وزارت خوراک کے حکام کی غفلت اور کاہلی سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلے میں فلور ملز مالکان کی جانب سے گندم کی کٹائی سیزن میں بین الاضلاعی پابندی عائد کرنے کے وقت ہی خدشات کا اظہار کیا گیا تھا صوبے کی ایک کروڑ 23لاکھ آبادی کے لئے صوبائی حکومت کی جانب سے صرف 10 لاکھ بوری گندم خریدنے کا اعلان کیا گیا مگر بروقت خریداری نہ ہونے کی وجہ سے اسی لئے یکے بعدیگرے آٹا بحران پیدا ہوئے اس وقت ملک بھر میں سب سے زیادہ پسماندہ صوبے بلوچستان کے لوگ سب سے مہنگے داموں گندم اور آٹا خریدنے پر مجبور ہیں جو مایوس کن ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے آٹا بحران کے وقت مانیٹرنگ ٹیم بنا کر چھاپہ مار کارروائی سمجھ سے بالاتر ہے اگر حکومت کے پاس فلور ملز کو وافر مقدار میں گندم کی فراہمی کر دی جاتی تو یہ نوبت ہی نہ آتی اس وقت جو بحران پیدا ہوا ہے اس کی زمہ داری صوبائی حکومت اور وزارت خوراک کے حکام پر عائد ہوتی ہے اس وقت بلوچستان میں فی بوری گندم کی قیمت 13سے پندرہ ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے جو مایوس کن ہے حکومتی اعلیٰ حکام کو چاہئے کہ وہ الزام تراشی کی بجائے ان سب کے خلاف بھر پور کارروائی عمل میں لائے جن کی وجہ سے آٹے کی طلب اور رسد بری طرح متاثر ہوا یا جنہوں نے بروقت پاسکو سے گندم کی خریداری نہیں کی اور یہ بحران پیدا ہوا انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان فوری طور پر بلوچستان کو درکار گندم کی خریداری کیلئے احکامات دیں اور اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان و دیگر حکام سے رابطہ کریں تاکہ عوام کو سستے داموں آٹا جیسی بنیادی ضرورت زندگی میسر آ سکے۔
پسماندہ صوبے بلوچستان کے لوگ سب سے مہنگے داموں گندم اور آٹا خریدنے پر مجبور ہیں جو مایوس کن ہے،ایوان صنعت و تجارت بلوچستان

