کوئٹہ /کراچی (ڈیلی گرین گوادر)نیشنل پارٹی سندھ کااجلاس زیر صدارت کامریڈ رمضان میمن کراچی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں بلوچستان کے قدرتی وسائل،سونے اوردیگر قیمتی معدنیات پر وفاقی حکومت کی طرف سے کی گئی غیر آئینی قانون سازی کی شدید الفاظ میں مزمت کی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری مجیدساجدی ساجدہ نے سندھ اور بلوچستان کے معدنی وسائل پر غیر آئینی قانون سازی کے ذریعے وفاق کے قبضے کوفیڈریش کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا افسوس ناک بات یہ ہے کہ دسمبر کے مہینے میں وفاق نے قومی وحدتوں پر قبضے کا منصوبہ بناتے وقت اتنا بھی نہیں سوچا کہ نصف صدی قبل دسمبر کے مہینے میں ملک اس لیے دولخت ہوگیا تھا کہ اس وقت کے حکمران بھی ایک وفاقی مملکت کو وحدانی طریقوں سے چلارہے تھے۔انہوں نے کہا قومی وحدتوں کے وسائل پر قوموں کاحق1973کیا آئین میں تسلیم شدہ ہے اسلام آباد کواس بات کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی ہے کہ وہ کسی قوم کے وسائل پر قبضہ جمالیاس سے قبل بلوچستان سے نکلنے والی قدرتی گیس کے خزانے کوجس بیدردی کیساتھ لوٹاگیاہے اوراسکے فوائد سے جس طرح بلوچستان کے عوام کو محروم رکھا گیا ہے اسکی ایک الگ دردناک داستان ہے اور پھر بلوچستان میں معدنیات کے بڑے ذخائر سیندک میں جو لوٹ مارکی گئی ہے اس کا حساب ہونابھی ابھی باقی ہے۔مجیدساجدی نے کہا حکمرانوں کے حوص اقتدار اورحوص زرگری نے وسائل سے مالا مال جفاکش اور محنتی انسانوں کے خوبصورت ملک کو کنگال کر دیا ہے آج ہرطرف سے ملک کے ڈیفالٹ کرجانے آوازیں سنائی دی رہی ہیں، حکمران اپنی عیاشیوں کوجاری رکھنے کے لیے اپنی سابقہ روش پر ہی گامزن ہیں۔ انہوں نے کہابلوچستان کی اسمبلی جھرلوانتخابات کی پیداوار ہے اور2018کے عام انتخابات جس کے نتیجے میں قومی اسمبلی وجود میں آئی تھی اسکی حقیقت بھی سب کے سامنے ہے اس طرح کی متنازع اسمبلیوں کے ذریعے قومی وحدتوں کے حقوق غصب کرنے کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا افسوس ناک بات یہ ہے کہ بلوچستان کے ساحل ووسائل کا تحفظ کرنے کی بھڑکیں مارنے والے نام نہاد رہنمابھی اس بلوچ دشمن عمل میں وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینیٹ میں نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر میرطاہربزنجواور سینیٹر اکرم دشتی کوسینیٹ میں انکے جرت مندانہ کردار پر زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ طاہر بزنجو اور اکرم دشتی نے ایون بالا میں تن تنہانہ صرف بلوچستان کے عوام بلکہ وفاق میں بسنے والی تمام قومی وحدتوں کی بھرپور نمائندگی کی ہے۔اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیاکہ وہ کودوبارہ ون یونٹ کے دورمیں جیسے ملک دشمن اقدامات اور قومی وحدتوں کے وسائل پر قبضہ گیری کے منصوبوں سے باز رہے،ریکوڈک اور دیگر معدنی وسائل اور سندھ و بلوچستان کے ساحلوں کو وفاق کے قبضے میں دینے کی سازشیں بندکی جائیں،غیر آئینی قانون سازی کے فیصلے کو فی الفور واپس لیاجائے اوراگروفاقی حکومت نے قومی وحدتوں کے خلاف کی گئی غیر آئینی قانون سازی کوواپس نہ لیاتواسکے خلاف قومی وحدتوں کے عوام مشترکہ مزاحمت کریں گے۔نیشنل پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری نے کہاکہ اس۔ سلسلے میں آئندہ کا لائحہ عمل نیشنل پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے اجلاس میں طے کیا جائے گا،اجلاس سے نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر مخدوم ایوب قریشی،مرکزی سیکریٹری لیبر مرزامقصود،سینٹرل کمیٹی کے رکن لالامحمدحسین،شاہینہ رمضان صوبائی سیکرٹری سوشل میڈیا عبداللہ جان،سیکریٹری خزانہ کامریڈ مول چند،ذوالفقارمکھی اورمقدرزمان نے بھی خطاب کیا۔
قومی وحدتوں کے وسائل پر قبضے کے خلاف مزاحمت کرینگے، نیشنل پارٹی سندھ

ٹیگز:
نیشنل پارٹی سندھ
