کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) چمن میں ایک ہفتے کے دوران دوسری بارافغان سرحدی فورسز کی بھاری ہتھیاریوں سے شہری آبادی پر بمبار، ایک شخص شہید جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 15افراد زخمی ہوگئے، ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی،پاکستانی فورسز کی جانب سے جارحیت کا بھر پور جواب دیا گیا۔سیکورٹی فورسز ذرائع کے مطابق جمعرات کو پاک افغان سرحد پر شیخ لعل محمد سیکٹر پر سرحد پر نصب کی گئی باڑ کی مرمت کے دوران افغان فورسز نے مداخلت کرنے کی کوشش کی جس پر دونوں فورسز کے درمیان تصادم ہوا۔اس دوران افغان فورسز کی جانب سے ایک بار پھر چمن شہر کی سولین آبادی پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیاگیا اور مارٹر گولے فائر کئے گئے جو آبادی پر گرنے سے ایک شخص جاں بحق جبکہ 15افراد زخمی ہوگئے۔زخمیوں ہونے والوں میں دوخواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔حکام کے مطابق پاکستانی فورسز کی جانب سے بھی جارحیت کا بھر پور جواب دیا گیا ہے جبکہ سرحد کے قریبی علاقوں کو خالی کروایا لیاگیا ہے۔افغان فورسز کی گولہ باری کے بعد کوئٹہ کے سول ہسپتال میں بھی ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ترجمان سول ہسپتال کوئٹہ کے مطابق چمن میں گولہ باری سے زخمی ہونے والے پانچ افراد کو سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا ہے جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔لیویز حکام نے بتایا کہ بوغرا اورکسٹم ہاؤس کے علاقے میں آرٹلری کے متعدد گولے گرے جس کے بعد شہریوں کو مال روڈ، بوغرا روڈ، بائی پاس اوربارڈر روڈ خالی کرنیکی ہدایت کی گئی ہے جب کہ ڈی ایچ کیو اسپتال چمن میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ہے۔واضح رہے کہ چند روز قبل بھی افغان فورسز نے چمن میں بارڈر کے قریب واقع شہری آبادی پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 8 پاکستانی شہری شہید ہوگئے تھے۔
چمن ،افغان سرحدی فورسزکی شہری آبادی پر بمباری، 1 شخص شہید خواتین اور بچوں سمیت 15افراد زخمی

ٹیگز:
چمن
