کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شوکت علی رخشانی پر مشتمل بینچ نے ایک آئنی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل محکمہ زراعت توسیعی کو محکمے میں بھرتیوں کے عمل کے عمل کو روکنے کا حکم دے دیا۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے کونسل نے موقف اختیار کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ محکمے کی جانب سے آسامیوں پر بھرتیوں کیلئے پہلی دفعہ 25 اکتوبر 2022 کو 1184 آسامیوں پر بھرتیوں کیلئے درخواستیں طلب کی گئی تھی جس کے بعد اس میں مزید805 آسامیوں کااضافہ کیا گیا اس سلسلے میں تین مرتبہ بھرتیوں کے لیے ٹیسٹ اور انٹرویو کا انعقاد کیا گیا تاہم بھرتیوں کے عمل کو مکمل نہیں کیا گیا بعد میں سیکرٹری زراعت نے ایک لیٹر کے ذریعے اس عمل کو روک لیا۔ بعد ازاں ڈاکٹر جنرل زراعت کے تبادلے کے بعد دوبارہ ریکروٹمنٹ کمیٹی بنائی گئی اور پچھلی بھرتیوں کے عمل کو مکمل کرنے کی بجائے ان آسامیوں کو دوبارہ مشتہر کیا گیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ بھرتیوں کے سلسلے میں پچھلا ریکارڈ سابق ڈی جی زراعت کے پاس موجود ہے جو کہ انہوں نے عدالت میں پیشی کے موقع پر عدالت کے حوالے کردیا علاوہ ازیں مذکورہ آسامیوں پر بھرتی کے لیے درخواستوں کی تاریخ میں 9 دسمبر 2022 تک توسیع کردی گئی تھی۔ بینچ نے کیس کو مزید پیچیدگیوں اور متنازع ہونے سے بچانے نیز امیدواروں کے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے محکمہ کو اگلی پیشی یعنی 21 دسمبر 2022 تک بھرتیاں روکنے کا حکم دے دیا۔
بلوچستان ہائی کورٹ کا محکمہ زراعت توسیعی کو محکمے میں بھرتیوں کے عمل کو روکنے کا حکم

ٹیگز:
ہائی کورٹ
