اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سربراہ اختر مینگل نے کہا ہے کہ ہمیں وہاں نہ دھکیلیں جہاں سے ہم کبھی واپس نہ آئیں۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اخترمینگل کا کہنا تھاکہ ہم دیواروں اورچھتوں سے مخاطب ہوں تو ہی ٹھیک ہو گا، بلوچستان اور ملتان میں لاشوں کے ڈھیر لگائے گئے، یہاں جمہوری حکومتیں بھی رہیں اورغیرجمہوری بھی، مختلف جماعتوں کی حکومتیں آئیں، آئین میں تبدیلیاں آئیں لیکن بلوچستان تبدیل نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھاکہ بلوچستان کے حالات تبدیل کیوں نہیں ہو رہے، ہماری باتوں کو تقویت ملتی ہے حکومتوں کے ہاتھ میں کچھ نہیں، سی ٹی ڈی کی جانب سے قتل کیے جانے والوں کی شناخت ہوگئی، تینوں افراد کو اٹھایا گیا تھا۔
سردار اختر مینگل کا کہنا تھاکہ وسیم تابش طالبعلم تھا جس نے لاپتہ افرادکےحق میں شعرپڑھےتھے، اس ملک میں شاعری بھی گناہ ہے، جو لکھتے ہیں بولتے ہیں ان کو اٹھایا جاتا ہے، جب پی ٹی آئی کےاتحادی تھے تو لاپتہ افرادکی فہرست دی تھی، اس میں سے ایک شخص کی لاش مقابلےکی شکل میں ملی ہے۔ان کا کہنا تھاکہ ہمیں وہاں نہ دھکیلیں جہاں سے ہم کبھی واپس نہ آئیں، بلوچستان کے علاقوں میں جعلی مقابلوں کو روکا جائے۔

