لاہور(ڈیلی گرین گوادر)وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ( ایف آئی اے ) نے پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے بانی رکن حامد زمان کو عدالت میں پیش کردیا۔ایف آئی اے کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما کو آج ہفتہ 8 اکتوبر کو لاہور کی ضلع کچہری پیش کیا گیا۔ حامد زمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ کی عدالت میں پیش کیاگیا۔ اس موقع پر ایف آئی اے کی جانب سے حامد زمان کے 14روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔
ملزم حامد زمان کی جانب سے خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے اور وکیل خواجہ حارث نے حامد زمان کے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی۔ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کی انکوائری کی ہے اور امریکا سے بینک اکاؤنٹس کو چلایا جا رہا ہے تقریباً6کروڑ کی رقم کو لایا گیا ہے۔ ٹرسٹ کی جانب سے جو کام ہونا چاہیے تھا نہیں ہوا جو بھی رقم منگوائی گئی اسے سیاسی طور پر استعمال کیا گیا ہے اور غیر قانونی طور پر پیسے منگوائے گئے۔جس پر حامد زمان کے وکیل نے کہا کہ ایف آئی اے نے طلبی کا نوٹس نہیں بھیجا۔
عدالت نے سوال کیا کہ ایف آئی اے کے سوالنامے کا جواب ہے آپ کے پاس؟ وکیل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ تمام جوابات تحریری طور پر جمع کروائے گئے ہیں اور انکوائری کا دائرہ اختیار ایف آئی اے کو ہے ہی نہیں۔ ایف آئی آر میں لگائے گئے الزام بے بنیاد ہیں۔اس موقع پر عدالت نے پی ٹی آئی کے بانی رکن حامد زمان کے ریمانڈ سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا، جب کہ ایف آئی اے افسران حامد زمان کو لیکر کمرہ عدالت سے روانہ ہوگئے۔

