کوئٹہ(ڈیلی گرین گرین) بلوچستان ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر عبدالمجید کاکڑایڈووکیٹ،راحب بلیدی ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ بلوچستان کی بار کونسلز اور عوام کسی کو بھی صوبے کے معدنی وسائل کوفروخت یا خفیہ معاہدہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے حکومت فوری طور پر ریکوڈک پروجیکٹ معاہدے کو عوام کے سامنے لائے۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی اس موقع پر عبدالقدوس ترین ایڈووکیٹ،عبدالمالک ایڈووکیٹ،علی کاکڑ ایڈووکیٹ، منظور بنگلزئی ایڈووکیٹ اوردیگروکلاء بھی انکے ہمراہ تھے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان ریکوڈک پروجیکٹ پر 14اگست کواس خفیہ معاہدے پر عملدرآمد کرنے جارہی ہے جو چندماہ قبل اسمبلی کے خفیہ اجلاس میں ہوا تھا جس میں نہ صرف عوام سے حقائق چھپائے گئے بلکہ صحافیوں کو بھی روک دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان معدنی وسائل سے مالامال ہے اور یہ زیرزمین پوشیدہ خزانوں سے بھرا ہوا ہے اٹھارویں ترمیم کے بعد اختیارات صوبوں کو منتقل ہوگئے ہیں اور اب اسکی روح سے صوبے خودمختار ہیں اور آئین پاکستان کے تحت جس علاقے میں معدنیات ہیں وسائل پر سب سے پہلے انکا حق ہے لیکن اسکے باوجود یہاں کے عوام کا اپنے ساحل اور وسائل پر اختیار نہ ہونا آئین اورقانون پرایک سوالیہ نشان ہے اور معاہدے کے بارے میں عوام سے حقائق چھپاکے رکھنااورعوام کو بے خبر رکھنا عوام سے دھوکہ کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنے ساحل و وسائل کے باوجود صوبے میجں انتہا درجے کی غربت ہے اور عوام غربت کی لیکر سے نیچے کی زندگی گزار رہ ہیں یہاں کے عوام کیلئے دو وقت کی روٹی اور بچوں کا پیٹ پالنا مشکل ہوگیا ہے اور عوام تعلیم،صحٹ،پینے کے صاف پانی اور روزگار سمیت دیگربنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔انہوں نے کہاکہ ریکوڈک پروجیکٹ پرنہ رف صوبے کے بار کونسل اور بارایسوسی ایشنز کے تحفظات ہیں بلکہ پورے صوبے کے عوام کے تحفظ ہیں ہم کسی بھی صورت حکومت کو ریکوڈک کے حوالے سے خفیہ معاہدے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ہم کسی بھی صورت حکومت کو ریکوڈک کے حوالے سے خفیہ معاہدے کی اجازت نہیں دیں گے،ایڈووکیٹ عبدالمجید کاکڑ

ٹیگز:
بلوچستان ہائی کورٹ
