کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) بلو چستان عوامی پارٹی کی رہنماء سینیٹر ثناء جما لی نے کہا ہے کہ بلو چستان کو اس کے حصے کا 6ہزار کیو سک پانی فراہم نہیں کیا جا رہا کچھی کینال منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہو سکا،کیا ہم ملک کا حصہ نہیں ہیں جو ہمیں ہما رے حصہ کا پانی نہیں دیا جا رہا، صوبے میں سیلا بی متاثرین کی امداد اور ہنگامی بنیا دوں پر بحالی کے اقدامات اٹھا ئے جائیں۔ یہ بات انہوں نے سینٹ اجلاس میں اظہار خیال کر تے ہوئے کہی، انہوں نے کہاکہ بلو چستان کے پا نی کا مسئلہ دن بدن گھمبیر ہوتا جا رہا ہے، میں پچھلے تین سالوں سے آبا ی وسائل کی قائمہ کمیٹی میں تھی ہمیشہ بلو چستان کے مسائل کو اجا گر کیا لیکن سابقہ وفا قی وزیر نے ایک بار بھی زحمت نہیں کی کہ وہ بلو چستان کے پانی کے مسئلے پر توجہ دیں، بلو چستان کے نصیر آباد ڈویژن کے لوگوں کے پاس پینے کا پانی نہیں تھا اور وہ سندھ سے پانی لا کر پینے پر مجبور تھے، انہوں نے کہاکہ بلو چستان کا پانی اوچ اور گڈو بیراج سے آتا ہے پٹ فیڈر میں 56فیصد، کیر تھر میں 76فیصد،اوچ میں 92فیصد،مجوٹی میں 98فیصد پانی کا شوٹ فال ہے جس کی وجہ سے علا قے کے لوگ ناصرف روز مرہ کے استعمال بلکہ زر عی ضروریات کے لئے در کار پانی سے بھی محروم ہیں، نصیر آباد ڈویژن میں زرعات تباہی کے دہا نے پر پہنچ چکے ہیں، انہوں نے کہاکہ کیا بلو چستان فیڈ ریشن کا حصہ نہیں جو اسے اسکے جائزحصہ کا پانی بھی فراہم نہیں کیا جا رہا،انہوں نے کہا کہ بلو چستان میں حالیہ سیلاب نے تباہی مچا دی ہے ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں لاکھوں ایکڑ زرعی زمین تبا ہ ہو گئی ہے بلوچستان کے لوگ اس وقت حکومت کی جانب دیکھ رہے ہیں صوبے کے دکھی سیلا ب متاثرین کا مداوا کر نے کے لئے انکی بحالی تک انہیں 10ہزار روپے ما ہا نہ ادا کئے جائیں سا تھ ہی سیلا ب متاثرین کی بحالی کے لئے فوری طوپر اقدامات اٹھائے جائیں۔
بلو چستان فیڈ ریشن کا حصہ نہیں جو اسے اسکے جائزحصہ کا پانی بھی فراہم نہیں کیا جا رہا،سینیٹر ثناء جمالی

ٹیگز:
سینیٹر ثناء جمالی
