کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور وچیئرپرسن وویمن پارلیمنٹرین کاکس فورم ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات میں 132 خواتین جنرل نشتوں پر براہ راست انتخابی عمل میں حصہ لیا ہار جیت جمہوری عمل کا حصہ ہے لیکن خواتین کا اتنی بڑی تعداد میں انتخابی عمل میں براہ راست شریک ہونا سیاسی پختہ سوچ پر مشتمل ایک حوصلہ افزاء اقدام ہے صوبے میں پہلی بار خواتین کی اتنی بڑی تعداد براہ راست جنرل نشستوں پر انتخابات کا حصہ بنی ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو اپنے جاری ایک بیان میں کیا ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے موقع پر ایک شخص جاں بحق جبکہ 30 کے لگ بھگ زخمی ہوئے وزیر اعلی بلوچستان نے ان واقعات کا فوری نوٹس لیکر انتظامی امور کو مزید موثر بنانے کی ہدایات جاری کیں بیک وقت 32 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا عمل ایک بہت چیلنج تھا جو الیکشن کمیشن آف پاکستان اور صوبائی حکومت نے بہ احسن طریق سرنجام دیا ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ سبی، کچھی، جعفر آباد اور نصیر آباد سمیت گرم علاقوں میں شدید درجہ حرارت کے باوجود عوام کی اکثریت نے جوش و خروش سے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، بعض علاقوں میں جھگڑے کے واقعات رونما ہوئے انتخابات کا روز گزر گیا اب تمام افراد کو روایتی بھائی چارے کی فضاء کے لئے وقتی سیاسی رنجشوں کو ختم کرتے ہوئے علاقائی امن کے لئے رواداری صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں بنیادی جمہوریت کے ان اداروں میں انتخاب کا عمل عوامی خواہشات کے مطابق پایا تکیمل کو پہنچ چکا ہے اب بلدیاتی اداروں کے مقامی چئیرمین حضرات کا انتخاب ہونا ہے اور بلدیاتی انتخابات کا بڑا مرحلہ مکمل ہوچکا انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں عورت فاونڈیشن سمیت سول سوسائٹی کی جن تنظمیوں نے خواتین کی موثر نمائندگی کی مہم چلائی ان کی خدمات کو سراہتے ہیں اور توقع ہے کہ جمہوری اداروں میں خواتین کی بھرپور شرکت کے لئے سول سوسائٹی اور حکومت کے تمام اسٹیک ہولڈرز میں مشاورت و اشتراکی اقدامات کا تسلسل آئندہ بھی قائم رہے گا
خواتین کا بڑی تعداد میں انتخابی عمل میں شریک ہونا ایک حوصلہ افزاء اقدام ہے ، ڈاکٹر ربابہ بلیدی

ٹیگز:
ڈاکٹر ربابہ بلیدی
