کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو توقعات پر پورانہیں اتر سکے جسکی وجہ سے انکے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی ہے، پی ڈی ایم کی جماعتوں نے وفاق میں تحریک عدم اعتماد کا ساتھ دینے پر بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کی یقین دہا نی کروائی تھی امید ہے وہ ہمارا ساتھ دیں گے،ایسی حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتے جس سے صوبے اور ملک کو نقصان پہنچ رہا ہو۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروانے کے بعد ارکان اسمبلی سردار یار محمد رند، اصغر خان اچکزئی، میر سلیم کھوسہ، میر عارف جان محمد حسنی سمیت دیگر ہمراہ بلوچستان اسمبلی کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ چھ سات ماہ سے سیاسی معاملات ہیں جن پر عوام اور ہمیں تحفظات ہیں بلوچستان میں حکومت کی کارکردگی اچھی نہیں تھی اور ہم پر امید رہے کہ بلوچستان کی حکومت بہتر ہوگی ہم سب کا موقف تھا کہ چیزیں بہتر ہوں ہمیں حکومت تبدیل کر نے کا شوق نہیں ہے لیکن صوبے میں بہتری نہیں آرہی تھی انہوں نے کہا کہ وفاق میں تحریک عدم آئی تو ہم نے سیاسی جماعتوں کے سامنے ایک مطالبہ رکھا کہ بلوچستان کی بہتری کے لئے حکومت کی تبدیلی میں ہمارا ساتھ دیں بی اے پی کے ارکان قومی اسمبلی نے اسی ایجنڈے کے تحت تحریک عدم اعتماد کا ساتھ دیا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ساتھ مزید ذیادتی کو نظر انداز نہیں کر سکتے تھے کیونکہ ہماری خاموشی کا مطلب اس جرم میں شراکت تصور ہوتا بی اے پی کا گورنر،چیف سیکرٹری یا کسی عہدے کے لئے کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہواہم نے بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ رکھا میں پی ڈی ایم سمیت تما م سیاسی جماعتوں کا مشکور ہوں کہ انہوں نے ہمیں یقین دہانی کروائی انہوں نے کہا کہ دوستوں نے مشورہ کیا کہ یہ وقت ہے اور ہمیں یہ قدم اٹھاناتحریک عدم اعتماد پر ہم خیال ساتھیوں کے گروپ کے ارکان کے دستخط ہیں آج ہم نے پہلا قدم اٹھالیا ہے اور ہم پر امید ہیں کہ ہم سے جو وعدہ کیا گیا ہے اس تحریک میں دیگر دوست بھی آئیں گے اور اس میں حکومت،وزیراعلیٰ سمیت دیگر اہم فیصلے ملکر لیں گی،ایک سوال کے جواب میں جام کمال خان نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے ارکان،سردار یار محمد رند سمیت دیگر ساتھیوں نے میاں شہباز شریف، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمن سے ملاقاتوں میں جب یہ مطالبہ رکھا تو انہوں نے بھی یقین دہانی کروائی کہ اگر آپ لوگ یہ چاہتے ہیں تو وہ ساتھ دیں وہ لوگ بھی جانتے ہیں وزیراعلیٰ کے گروپ نے انکا ساتھ نہیں دیا امید ہے وعدہ وفا کرنے کے لئے دیگر جماعتیں ساتھ دیں گی انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں وزیر اعلیٰ، وزیراعظم،کابینہ میں سیاسی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں ایسا نہیں ہو سکتا کہ بلوچستان اور پاکستان نقصان میں جائیں تو حکومت پانچ سال مکمل کرے پارلیمنٹ اور اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرنی چاہیے ہم نے حکومت کو بار بار کہا کہ انکے اقدامات میں سنجیدیگی نظر نہیں آرہی اور بلوچستان کو نقصان پہنچ رہا ہے اب بجٹ آنے والا ہے نوکریوں، ترقیاتی کاموں،وفاق سے چیزیں منوانے کے مسائل ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت جانے سے پہلے پی ڈی ایم کی جماعتیں اپوزیشن میں تھیں مگر وفاق میں عدم اعتمادمیں بی اے پی نے انہی جماعتوں کا ساتھ دیااب وہ جماعتیں صاحب اقتدار ہیں باقی ہم ایک ساتھ ہیں ہم نے لائحہ عمل طے کر کے چلنا ہے انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے ساتھ لوگ نہیں ہوتے تو ممکن نہیں تھا کہ ہم عدم اعتماد لاتے ہمیں ارکان کا ساتھ حاصل ہے قدوس بزنجو بی اے پی کے وزیراعلیٰ ہیں ہماری ان سے توقعات تھیں مجھ پر اعتراض تھا کہ میں کم ملتا ہوں لیکن کم ملنا نہ ملنے سے بہتر ہے انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو جوابدہ ہونا چاہیے ہم صوبے کی بہتری کے لئے آگے آئے ہیں انہوں نے کہا کہ سیاست میں زبان اور وعدے پر لوگ قائم رکھتے ہیں اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سینئر سیاستدان سردار یار محمد رند نے کہا کہ جام کمال خان سے ماضی میں اختلافات ہوئے ساڑھے تین سال برداشت کیا اور انہیں بتاتے رہے مگر بدقسمتی سے حالات ایسے ہوئے کہ ہمیں ایک تبدیلی کے لئے جدوجہد کر نی پڑی ہم چاہتے تھے کہ جو کام جام کمال خان کے دور میں نہیں ہورہے تھے وہ اب ہونے چاہیے تھے اب ہمیں جام کمال خان فرشتہ نظر آتے ہیں صوبے میں کرپشن، امن و امان کی صورتحال خراب، ابتر حکمرانی جاری ہے گزشتہ حکومت بہت بہتر تھی ہم عوام سے کئے گئے وعدوں کے نبھانے کے پابند ہیں ہماراوزیراعلیٰ سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں لیکن انکے طرز حکمرانی پر اعتراض ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی جام کمال خان پر کرپشن اور انکی ایمانداری پر سوالات نہیں اٹھائے سردار یار محمد رند نے کہا کہ ابھی وقت ہے اس وقت پی ٹی آئی کا پارلیمانی لیڈر ہوں اگر میں عمران خان کے بیانیے سے اتفاق کرتا تو وزیراعظم کے معاون خصوصی کی حیثیت سے استعفیٰ نہیں دیتا عمران خان کے ساتھ جدوجہد کی پارٹی کو پارلیمانی جماعت بنایا مگر عمران خان نے بلوچستان کے عوام سے ذیادتی کی صرف ٹی وی پر دیکھانے کے لئے بلوچستان کے چند لوگ سامنے لائے مجھے افسوس ہے 25سال تک پی ٹی آئی کے ورکروں کو نظر انداز کیا گیا اور خان صاحب چہیتے بھاگ گئے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ ملک کی سنجیدہ سیاسی قوتوں نے ملک کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاق کی سطح پر قائم مصیبت سے چھٹکارا حاصل کیاانہوں نے کہاکہ بلوچستان کی سطح پر بھی یہی محسوس کیا گیا اس وقت یہ کمٹمنٹ ہوئی تھی کہ بلوچستان عوامی پارٹی اگر مثبت تبدیلی کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالے گی تو بلوچستان میں بھی تبدیلی میں ساتھ دیا جائیگا اب گناہ سے چھٹکارا حاصل کرنے کا وقت آگیا ہے مزید اس گناہ میں ہمیں حصہ نہیں ڈالنا چاہیے اور کمٹمنٹ پوری کرنی چاہیے انہوں نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی میں لوگ مر رہے ہیں حکومت کا کوئی نمائندہ وہاں نہیں گیا حکومت اور حکومتی مشینری سو رہی ہے پانی اور دیگر سہولیات بروقت مہیا نہیں کر رہی تو اس حکومت سے مزید کیا توقع کی جاسکتی ہے انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی بلوچستان کی ادھوری ترقی کو دوبارہ ٹریک پر ڈالنے کے لئے ہے بلوچستان کے مفادات اور ترقی کے لئے ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا امید ہے دیگر سیاسی جماعتیں بھی ہمارا ساتھ دیں گی
پی ڈی ایم کی جماعتیں وزیر اعلیٰ قدوس بزنجو کیخلاف تحریک عدم اعتماد میں ساتھ دینگی، جام کمال ،سردار رند

ٹیگز:
جام کمال
