کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان امن جرگے کے سربراہ لالا یوسف خلجی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو قوم اور مذہب پرستی کے نام پر آپس میں لڑانے والی سیاسی و مذہبی جماعتیں اقتدار کے حصول کیلئے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوگئی ہیں اب دیکھنا ہے کہ یہ جماعتیں عوام کے مسائل کس حد تک حل کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔ یہ بات انہوں نے اتوارکو بلوچستان امن جرگے کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ملاقات کرنے والے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ لالا یوسف خلجی نے کہا کہ ماضی میں بلوچستان کے عوام کو پشتون،بلوچ،پنجابی،سندھی،سرائیکی اور مذہب کے نام پرآپس میں دست و گریبان کیا گیا جس سے صوبے میں نفرتیں اور قبائلی دشمنیاں بڑھیں اب اقتدار کے حصول کیلئےپشتون،بلوچ،پنجابی،سندھی،سرائیکی،مہاجر سیاسی اور مذہبی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پراکٹھی ہوگئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بلوچستان کے اپنے ہی ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز نے صوبے کوپسماندگی کی دلدل میں دھکیلا اب دیکھنا ہے کہ یہ سیاسی اور مذہبی جماعتیں جو اقتدار کے لئے جمع ہوئی ہیں یہ عوام کے مسائل کس حد تک حل کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں کیونکہ بلوچستان کے عوام آج اکیسویں صدی میں بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور بلوچستان کھنڈرات کا منظر پیش کررہا ہے اور صوبے کے عوام مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں دو وقت کی روٹی کے محتاج ہوچکے ہیں،سیاسی اورمذہبی جماعتوں نے عوام کی خدمت کی بجائے ہمیشہ اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دی ہے اگر اب بھی یہ جماعتیں عوام کی خدمت نہیں کرتیں تو عوام ووٹ کے ذریعے انکا احتساب کریں گے۔
بلوچستان کے عوام آج اکیسویں صدی میں بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، لالا یوسف خلجی

ٹیگز:
لالا یوسف خلجی
