کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)وزیر اعلیٰ بلو چستان میر عبد القدو س بزنجو نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صوبے کے مسائل کو حل کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات ٹھا رہی ہے بلوچستان کو شورش نہیں بلکہ سرمایہ کاروں کا میدان بنائیں گے سیاست سے بالا تر ہوکر ہمیں بلو چستان کے مسائل کو حل کر نے کے لئے ہمیں ایک پیج پرآنا ہو گا، ریکوڈک سمیت بلوچستان کے مسائل کے حل کے لئے تمام اسٹیک ہولڈز کو اعتما د میں لیا گیا صوبے کو ریکوڈک معاہدے میں نامساعد حالات میں بھی بڑا حصہ ملنا تاریخی اقدام ہے، یہ بات انہوں نے جمعرات کو سول سیکرٹریٹ کوئٹہ میں میڈ یا سے گفتگو کر تے ہوئے کہی،اس موقع پر گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا بھی مو جود تھے، انہوں نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے پر عملدآمد سے بلو چستان میں تر قی کی راہیں کھلیں گی اب بلوچستان کو کسی کو بھی شورش کا میدان نہیں بنانے دیں گے آنے والے دور میں بلو چستان سرمایہ کاروں کا میدا ن ہوگاانہوں نے کہا کہ سیا ست اپنی جگہ لیکن بلو چستان کے اہم مسائل کو حل کر نے کے لئے ہمیں ایک پیج پر آنا ہو گا، ریکوڈک کے معاہدے سے قبل بلو چستا ن نیشنل پارٹی کے سربراہ سر دار اختر مینگل،نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبد المالک،پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، سینیٹر مولانا عبد الغفور حیدری، جمعیت علماء نظر یا تی سمیت اسٹیک ہولڈ سے ملا قاتیں کیں اور انہیں اعتماد میں لیا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے ان کیمرہ اجلا س کے روز ایوان کو کمیٹی روم قرار دیا گیا اور 9گھنٹے تک ریکوڈک سے متعلق تمام اراکان اسمبلی کو سنا گیا اور انہیں مطمئن کیا گیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سمیت ہر سب کا موقف ہے کہ صوبے کو ریکوڈک منصوبے میں زیادہ سے زیادہ حصہ ملنا چاہیے تھا لیکن سابقہ معاہدے کی وجہ سے 11ارب ڈالر کا بوجھ آیا تھا جن حالات میں معاہدہ کیا گیا ہے اور صوبے کو شیئر، رائلٹی، سی ایس آر کی مد میں جو کچھ حاصل ہورہا ہے اس پر شابا شی دیں گے کیونکہ تاریخ میں کبھی سونے اور تانبے کے کسی بھی منصوبے میں کسی صوبے کو اتنا حصہ نہیں ملا یہ ایک تاریخی اقدام ہے، انہوں نے کہاکہ بیرک گولڈ کے مالک مارک بسٹو کی جانب سے یقین دہا نی کروائی گئی ہے کہ بلو چستان حکومت کی مالی مدد کر تے رہیں گے نوجوانوں کی استعداد کو بڑھانے، کے لئے 8000افراد کو بیرون ملک سے تربیت بھی فراہم کی جائیگی، انہوں نے کہاکہ بلو چستان کو رائلٹی کی مدد میں پیسے ملیں گے،سابقہ حکمرانوں کے دور میں بلو چستان کے مسائل کو اس انداز میں سنجیدیگی سے نہیں لیا گیا جس طرح ہم لے رہے ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو سے بلوچستان ورکرز اینڈ امپلائز گرینڈ الائنس(بیوگا) کے صدر و دیگر عہدیداروں سے یہاں ہونے والی ملاقات میں گرینڈ الائنس کے مطالبات کے حل کے لئے قائم کمیٹی کی مرتب کردہ سفارشات کو جلد کابینہ میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے بعد گرینڈ الائنس نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا ملاقات میں صوبائی وزراء سردار عبدالرحمن کھیتران، میر نصیب اللہ مری، پارلیمانی سیکرٹریز حاجی محمد خان طور اتمانخیل، مٹھا خان کاکڑ، چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا، سنئیر ممبر بورڈ آف ریونیو ارشد مجید چئیرمین سی ایم آئی ٹی عبدالصبور کاکڑ سیکریٹری فنانس حافظ عبدالباسط، بلوچستان گرینڈ الائنس کے صدر حبیب الرحمن مردان زئی، کمشنر کوئٹہ ڈویڑن سہیل الرحمن بلوچ سمیت گرینڈ الائنس کے دیگر عہدیداروں نے شرکت کی وزیراعلیٰ نے گرینڈ الائنس کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں کو بلاک کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ تمام مسائل کو باہمی افہام و تفہیم سے بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہیے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ اس بات کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں کہ گرینڈ الائنس کے مطالبات جائز ہیں لیکن ان کے مطالبات کے حل کے لیے ہمیں صوبے کی مالی پوزیشن کو بھی مدنظر رکھنا ہے اور ہمیں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر مسائل حل کرتے ہوئے بلوچستان کی ترقی کے لیے کام کرنا ہے انہوں نے کہا کہ مطالبات کے حل کے لئے کمیٹی قائم کی جا چکی ہے اور وہ کمیٹی آپ کے جائز حقوق و مطالبات اور ملازمین کے مفاد میں کام کرے گی وزیراعلی نے کہا کہ جب ہم نے حکومت تبدیل کی تو احتجاج اور دھرنے ہمیں ورثے میں ملے گلوبل ٹیچرز، سی اینڈ ڈبلیو کے ملازمین اور بی ڈی اے کے ملازمین کی تنخواہوں کے اجراء جیسے مسائل ہم نے فوری طور پر حل کیے۔ وزیراعلی نے کہا کہ آپ ہمارا پڑھا لکھا طبقہ ہیں اور ہمیں آپ سے امید ہے کہ آپ اپنے مطالبات کے حل کے لئے عوام کو تکلیف نہیں دیں گے انہوں نے کہا کہ خدانخواستہ اگر اس احتجاج اور دھرنے کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کی ذمہ داری بھی ہم پر عائد ہوگی انہوں نے کہا کہ عوام کی تکالیف کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے اپنی آمد ورفت کے دوران روٹ لگانے اور ٹریفک روکنے کی سختی سے ممانعت کر رکھی ہے وزیر اعلی نے کہا کہ ملازمین کو انکے تمام جائز حقوق دیے جائیں گے وزیراعلیٰ نے اس موقع پر چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ کمیٹی کے اجلاس تواتر کے ساتھ منعقد کرتے ہوئے ملازمین کے مطالبات کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ اس موقع پر گرینڈ الائنس کے صدر حبیب الرحمن مردان زئی اور دیگر سینئر عہدے داروں نے وزیراعلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک عوامی وزیراعلی ہیں اور ہمارے مطالبات کے حوالے سے آپ کی خصوصی دلچسپی اور توجہ پر انتہائی مشکور ہیں۔
بلوچستان کو شورش نہیں بلکہ سرمایہ کاروں کا میدان بنائیں گے، وزیراعلیٰ بلو چستان

ٹیگز:
وزیراعلیٰ بلو چستان
