کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے ترقی نسواں مہ جبین شیراں نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت خواتین کے حقوق کے حوالے سے ریکارڈ قانون سازی اور تمام شعبوں میں شمولیت کے یکساں مواقع فراہم کر رہی ہیں بلوچستان میں خواتین زندگی کے تمام شعبوں میں مردوں کے شانہ بشانہ فعال کردار ادا کر رہی ہیں خواتین کو تحفظ فراہم کرنے سے ہی معاشرے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہر سال 8 مارچ کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں خواتین کاعالمی دن ترقی نسواں کے طور پر منایا جاتا ہے پاکستان سمیت بلوچستان میں عورتوں کے مسائل کے حوالے سے بیداری میں اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ حکومت بلوچستان نے میر قدوس بزنجو کی سربراہی میں متعدد منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے سمیت مختلف قانون سازی سمیت خواتین کی معاشی شراکت داری اور مواقع روزگار میں عورتوں کی نمائندگی کے پختہ عزم کا اعادہ ظاہر کیا ہے انہوں نے کہا کہ خواتین کے عالمی دن کے منانے کا مقصد اس کے وجود کی عظمت کا اعتراف تھا کہ وہ صرف ایک جسم نہیں بلکہ زی روح انسان ہے اور جذبات رکھتی ہے اس کو زرخریدغلام سمجھنے والے انسان نہیں بلکہ درندے ہیں انہوں نے کہا کہ اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے مرد و زن کو برابر کے حقوق دیا ہے اور عزت و وقار دے کر ہر کسی کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا ہے پاکستان جیسے معاشروں میں بچیوں کی پیدائش سے ہی امتیازی رویوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے لیکن یہ متعصب رویہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ اس وقت پیچیدہ اور گہرے ہوتے نظر آتے ہیں جب تعلیمی میدان سے لے کر شادی کے معاملات اور نوکریوں کے حصول تک خواتین کو خود کو منوانے کے لئے ایک اضافی جدوجہد کا سامنا کرنا ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ بلوچستان میں ملک بھر کی طرح خواتین کو اب عزت قدر وقار کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تمام صوبوں میں ان کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ عورتوں کو تعلیم،صحت، زراعت کے میدان میں غرض کے تمام شعبہ ہائے زندگی میں ترقی کے یکساں مواقع کے مل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترقی نسواں میں جو قانون سازی ہوئی اس کی وجہ سے عورتوں کو ان کے جائز حقوق ملے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی بھی زندگی کے تمام شعبوں پر اثر انداز ہورہی ہے اکثر دیہاتی علاقوں میں بنیادی انفراسٹرکچر کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ہماری خواتین ڈلیوری کے دوران یا تو مر جاتی ہے یا کئی پیچیدہ امراض کے شکار ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی نہیں بنائے جائے گا تو ہمارے معاشرے میں خواتین پرجبر تشدد اور ظلم کے ہوتے رہیں گے انہوں نے عورتوں سے کہا کہ اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے ڈٹ کر کھڑا ہونا ہے رونا دھونا نہیں ہے کسی کی ہمدردی کی ضرورت نہیں بلکہ آج بلوچستان میں خواتین مکمل طور پر اپنے حقوق حاصل کرنے میں بااختیار اور آزاد ہے زندگی کے تمام میدانوں میں عورتوں کو ان کے جائز حقوق مل رہے ہیں خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے تمام رکاوٹیں عبور کرنا ہے لوگوں کی باتوں کو خیال میں نہیں لانا ہے سر اٹھا کے چلو سینے تھان کے چلو۔اس موقع پر ریٹائر سینیٹر جاوید جبار پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور خلیل جارج ہیومن رائٹس ڈولپمنٹ کے ظفر بلیدی ذوالفقار درانی چیئرپرسن پروینشن کمیٹی ان دا سٹیٹس آف ومن فوزیہ شاہین زلیخا رئیسانی خورشید بروچہ صابرہ اسلام ایس ایچ او فرزانہ منظور ترین نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ حاصل کرتے ہوئے صنفی مساوات اور ترقی نسواں کے لیے مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے مضبوط معیشت کے لیے ضروری ہے کہ صوبے میں خواتین کی کلیدی کردار کو دیکھتے ہوئے ان کی شراکت بہت اہم ہیں انہوں نے کہا کہ خواتین کو تمام اداروں میں شامل کرکے کے ان کے خلاف ہونے والے تشدد کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے گا ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز صنفی مساوات اور ترقی نسواں کے لیے کام کرنے والے ادارے پروفیشنلزم عزم کے ذریعے موثر اقدامات اٹھائیں جس سے یقینی طور پر خواتین کی حوصلہ افزائی ہو گی اور اس کے دور رس اثرات ہمارے معاشرے پر مرتب ہوں گے
خواتین کو تحفظ فراہم کرنے سے ہی معاشرے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں،مہ جبین شیراں
ٹیگز:
مہ جبین شیراں
