کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں افغانستان کی مالی اور غذائی قلت سے نمٹنے کے لئے امداد، طلباء یونینز کی بحالی، پلاسٹک سے بنے ہوئے کھلونے (بندوق و پستول وغیرہ) کی بیرون ملک سے امپورٹ پر فوری طو رپر پابندی سے متعلق قرار دادیں منظور کرلی گئیں،منگل کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کی رکن شاہینہ کاکڑ نے مشترکہ قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوان ہمسایہ ملک افغانستان میں بدلتی ہوئی صورتحال اور افغان عوام کے ساتھ ان کے جنگ زدہ ملک میں دیر پا امن کی تلاش میں مکمل یکجہتی اور حمایت کااظہار کرتا ہے۔ چونکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن وسلامتی اور استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں افغانستان کو اس وقت تاریخ کی بد ترین مالی اور غذائی قلت کی صورتحال کا سامنا ہے جس کی تصدیق اقوام متحدہ کے اداروں نے بھی کی ہے افغانستان کی موجودہ مالی اور غذائی صورتحال جس کے اثرات افغانستان سے ملحق صوبوں بلوچستان اور خیبرپختونخوا پر بھی پڑنے کے خدشات ہیں۔لہٰذا یہ یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ وہ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ او آئی سی، یورپی یونین اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں سے رجوع کرے کہ وہ افغانستان میں امن اور مفاہمت کی پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے افغانستان کی فوری مالی امداد اور غذائی قلت کے شکار علاقوں میں اشیائے خوردونوش کی فراہمی کو یقینی بنائے۔قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے اے این پی کے پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی نے کہا کہ افغانستان میں صورتحال خراب ہونے کے منفی اثرات بلوچستان اور خیبرپختونخوا پر براہ راست پڑیں گے۔ افغانستان کی موجودہ صورتحال کودیکھتے ہوئے خدشہ ہے کہ وہاں خوراک، روزگار،بنیادی سہولیات کی کمی کی وجہ سے بدامنی، دہشت گردی اور جرائم بڑھیں گے جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ امریکہ نے افغان عوام کے فنڈز کو منجمد کیا اور اب ان میں سے ایک حصہ نائن الیون کے متاثرین کو دیا جارہا ہے یہ افغان حکومت نہیں افغان عوام کے پیسے ہیں اگر ان حالات میں بھی عالمی دنیا نے افغانستان کے عوام کی مدد نہ کی تو اس کے منفی اثرات سب کو بھگتنے پڑیں گے انہوں نے کہا کہ افغان عوام کی مدد کی جائے۔ پشتونخو ا ملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرئے نے کہا کہ افغان اقوام نے ہمیشہ اپنی سرزمین کا دفاع کیا ہے اور وہ کبھی بھی غذائی قلت کا شکار نہیں ہوئے لیکن پندرہ اگست کے بعد کے حالات سے آج وہاں زرعی اجناس کی قلت ہے دنیا کا فرض ہے کہ وہ افغانستان کی مدد کرے انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان میں جمہوری ادارے قائم کئے جائیں تو وہاں کے عوام اس المیہ کو ختم کرسکتے ہیں ہمیں اپنے ہمسایوں کا خیال رکھنا چاہئے افغانستان مستحکم ہوگا تو ہمارا ملک بھی مستحکم ہوگا افغان عوام کے منجمد اثاثوں کو بحال کیا جائے۔ جے یوآئی کے سید عزیز اللہ آغا نے کہا کہ مہذب اقوام کو افغانستان کے بچوں کی آہیں اور سسکیاں کیوں سنائی نہیں دیتیں۔ سازش کے تحت افغانستان کی موجودہ حکومت کو ناکام کیا جارہا ہے وفاقی حکومت عالمی سطح پر افغانستان کے لئے آواز اٹھائے انہوں نے کہا کہ افغان حکومت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جنہوں نے تاریخ رقم کی ہے اور 46ممالک کو شکست فاش دی ہے۔ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نائل نے کہا کہ افغانستان میں اس وقت انسانی بحران ہے سیاسی جماعتیں ہمیشہ ملک کی خارجہ پالیسی کو عدم مداخلت سے منسلک کرتی ہیں لیکن سیاسی جماعتیں خود کسی نہ کسی طریقے سے افغانستان میں مداخلت کرتی ہیں یہ وہاں کے عوام کا حق ہے کہ وہ کونسا نظام لائیں۔عالمی برادری نے افغانستان میں انسانی حقوق،خواتین اور دیگر لوگوں کے متعلق خدشات کااظہارکیا ہے جب تک مذہب اور قومیت پر تفریق ہوگی تو صورتحال میں بہتری نہیں آسکتی عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر افغانستان کی امداد کرے۔ سینئر صوبائی وزیر نور محمد دمڑ نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو غیر جانبدار ہو کر افغان حکومت کو تسلیم کرنا چائے۔ افغانستان میں امن سے پاکستان میں بھی امن آسکتا ہے ماضی میں افغانستان کی حکومت نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والے عناصر کو پناہ دی اور ان کی حمایت کی افغانستان جس مشکل سے گزررہا ہے اس صورتحال میں عالمی برادری کو ان کی مدد کرنی چاہئے۔ صوبائی وزیر سید احسان شاہ نے کہا کہ نائن الیون میں سعودی اور مصری شہری ملوث تھے تو افغان عوام کے فنڈز نائن الیون کے متاثرین کو کیسے دیئے جاسکتے ہیں نائن الیون پر بھی بہت سی آراء ہیں کہ یہ اندرونی طور پر کیا گیا۔ جرمن سفیر سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بھی کہا کہ افغانستان میں بنیادی کام بند نہیں کئے گئے دیگر اقوام کو بھی چاہئے کہ وہ افغانستان کی مدد کرے۔ بعدازاں قرار داد کو منظور کرلیا گیا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ طلباء وطالبات کسی بھی ترقی پذیر اور ترقیافتہ معاشرے کی سیاسی، سماجی تعلیمی معاشی اور مستقبل کی ذمہ داریوں کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ طلباء وطالبات احساسات، خواہشات، اور معاشرتی معاملات سے متعلق نقطہ نظر طلباء یونینز کے قیام اور ان کی فعالیت و موثر کردار کے باعث ممکن ہے جبکہ اس کے برعکس1984ء میں ملک بھر میں لبہ یونینز پر پابندی عائد کی گئی تھی جوکہ سراسر ظلم کے مترادف تھا۔ طبلاء یونینز کی بحالی کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے حکومت سندھ نے باقاعدہ قانون سازی بھی کرلی ہے جوخوش آئند اقدام ہے طلبہ یونینز کی بحالی سے نہ صرف بہتر تعلیم کی راہ ہموار ہوئی ہے بلکہ نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں بھی پروان چڑھیں گی۔ لہٰذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ حکومت سندھ کی طرز پر صوبہ بھر میں ژطلبہ یونینز پر لگی پابندی ختم کرنے کی بات ضروری قانون سازی کرنے کو یقینی بنائے۔قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے اس سلسلے میں قانون سازی کرکے طلبہ یونینز پر عائد پابندی ہٹادی ہے یہ پہل بلوچستان سے ہونی چاہئے تھی۔طلبہ یونینز تعلیمی اداروں کے محافظ ہیں اگر طلبہ یونینز موجود ہوتے تو جامعہ بلوچستان کا سکینڈل رونما نہ ہوتا طلبہ یونیزکو ایکٹیو رول کی اجازت دی جائے۔ پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے اور جے یوآئی کے سید عزیز اللہ آغا نے بھی قرار داد کی حمایت کی جس کے بعدا یوان نے قرار داد کو متفقہ طو رپر منظور کرلیا۔پارلیمانی سیکرٹری بشریٰ رند نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں پالسٹک سے بنے ہوئے کھلونوں جن میں بندوق و پستول کی سرعام فروخت جاری ہے جو معصوم بچوں کو بچپن میں ہی اسلحہ استعمال کرنے کی تربیت کا ذریعہ بن رہا ہے جو کہ ایک تشویش ناک بات ہے۔ مزید برآں ان کے استعمال سے کئی معصوم بچوں کی آنکھیں بھی ضائع ہوچکی ہیں۔ لہٰذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ پلاسٹک سے بنے ہوئے کھلونوں جن میں بندوق و پستول شامل ہیں کی فروخت پر صوبہ بھر میں فوری طور پر پابندی عائدکرے اور ساتھ ہی وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ پلاسٹک سے بنے ہوئے کھلونے (بندوق و پستول وغیرہ) کی بیرون ملک سے امپورٹ پر فوری طو رپر پابندی لگانے کو یقینی بنائے تاکہ معصوم بچوں کو بچپن سے اسلحہ استعمال کرنے سے روکا جاسکے۔ایوان نے یہ قرار داد بھی متفقہ طو رپر منظور کرلی جس کے بعد اجلاس جمعرات 24فروری تک ملتوی کردیا گیا۔
بلوچستان اسمبلی اجلاس، طلباء یونینز کی بحالی، کھلونے بندوق کی بیرون ملک سے امپورٹ پرفوری طو رپر پابندی سے متعلق قرار دادیں منظور

ٹیگز:
قرار دادیں منظور
