اسلام آباد (ڈیلی گرین گوادر)وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ اور صحافی ریحام خان نے دعویٰ کیا ہے گزشتہ رات ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی اور مسلح افراد نے ان کی گاڑی بھی روکی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سلسلہ وار ٹوئٹس میں انہوں نے کہا کہ اتوار (2 جنوری) کی شب کو اپنے بھتیجے کی شادی سے واپس آرہی تھیں کہ ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی ۔ریحام خان نے کہا کہ موٹرسائیکل پر سوار 2 افراد نے اسلحے کے زور پر ان کی گاڑی کو روکا۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اس سے پہلے ہی گاڑی تبدیل کی تھی اور جس گاڑی پر فائرنگ کی گئی اس میں پرسنل سیکریٹری اور ڈرائیور سوار تھے۔
ریحام خان نے اپنی ٹوئٹ میں وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’کیا یہ ہے عمران خان کا نیا پاکستان؟ بزدلوں، ٹھگوں اور لالچیوں کی ریاست میں خوش آمدید‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں پاکستان میں ایک عام پاکستانی کی طرح جینے اور مرنے کا انتخاب کرتی ہوں، چاہے یہ بزدلانہ ٹارگٹ حملہ ہو یا جڑواں شہروں کی مرکزی شاہراہ پر لاقانونیت، اس حکومت کو اس کا جوابدہ ہونا چاہیے، میں اپنے وطن کی خاطر گولی کھاسکتی ہوں‘۔بعدازاں آج صبح کی گئی ٹوئٹ میں ریحام خان نے بتایا کہ ’صبح کے ۹ بج رہے ہیں، میرا پرسنل سیکریٹری اور ٹیم ایک لمحہ نہیں اور اب تک اسلام آباد کے شمس کالونی پولیس اسٹیشن میں واقعے کی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقات جاری ہیں اور میں ایف آئی آر کی کاپی کی منتظر ہوں۔ ریحام خان نے درخواست کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ درخواست جمع کروا دی گئی ہے اور ایف آئی آر کا انتظار ہے۔ان کی ٹوئٹ کے بعد اکثر صارفین کی جانب سے ریحام خان کی خیریت دریافت کی گئی، جس پر انہوں نے بتایا کہ وہ خیریت سے ہیں۔

