کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان میں 5 روزہ پولیو مہم 13 دسمبر سے شروع ہوگا مہم کے دوران 23 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جانے کا ہدف مقررمقرر کیاگیاہے کوآرڈینیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان حمید اللہ ناصر نیاپنے بیان میں کہا ہے کہ پیر سے پورے صوبے بھر میں پولیو مہم شروع کی جائے گی بلوچستان کے34اضلاع میں پانچ روزہ انسداد پولیو مہم13دسمبر بروز پیر سے شروع ہورہی ہیاس پانچ روزہ انسداد پولیو مہم کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے23لاکھ کے قریب بچوں کو پولیو سے بچاؤکے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مہم کے دوران11084کے قریب ٹیمیں حصہ لینگی۔جن میں 9172موبائل ٹیمیں 949فکسڈسائٹ اور592ٹرانزٹ پوائنٹس شامل ہیں۔ انسداد پولیو مہم کے دوران بچوں کو وٹامن اے کے قطرے بھی پلائے جائیں گے کوآرڈینیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان حمید اللہ ناصر کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا بھر میں پاکستان اور افغانستان دو ایسے ممالک ہیں جہاں پر پولیو وائرس موجود ہے۔ اس سال بلوچستان سے پولیو کا ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔ کوئٹہ، پشین اور بالخصوص ضلع قلعہ عبداللہ میں بچوں کے لیے پولیو وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ اب بھی موجود ہے۔ پولیو مہم کی کامیابی کے حوالے سے علمائے کرام کا اہم کردار ہے جو اس مہم کے دوران شعور وآگاہی کیلئے اپنی خدمات سرانجام دینگے لہذا بروز پیر سے شروع ہونے والی پولیو مہم انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس ضمن میں ٹرانزٹ پوائنٹس پربھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے تاکہ پولیو وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ ہم نے عزم کررکھا ہے کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پورے صوبے سے پولیو کا خاتمہ نہیں کیا جاتا اور پولیو کا خاتمہ کرنے کے لیے انسداد پولیو کی ہر مہم میں پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین پلانا لازمی ہے اور ساتھ ہی ساتھ بچوں کوحفاظتی ٹیکہ جات کا کورس مکمل کرانا بھی لازمی ہے تاکہ بچوں میں پولیو سمیت دیگر خطرناک اور جان لیوا بیماریوں سے بچنے کے لیے قوت مدافعت پیدا ہو انسداد پولیو مہم کو کامیاب اور ہر بچے کو قطرے پلانے کیلئے کمیونٹی ہیلتھ رضاکاروں کی بھی خدمات لی جارہی ہیں جو ان ہائی رسک علاقوں میں کام کرینگے جہاں بچوں تک رسائی مشکل ہے۔ اس عمل کوبہتر بنانے کیلئے علماء کرام، قبائلی رہنماؤں اور معتبرین کی بھی مدد لی جارہی ہے۔ہماری میڈیا، عوام اور ہر شہری سے اپیل ہے کہ وہ اس مہم کو کامیاب بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ ہمارے بچے مستقل معذوری سے بچ سکیں۔ پولیو لا علاج مرض ہے او ر پولیو ویکسین پلا کر ہی بچوں کو اس سے محفوظ کیا جا سکتا ہے اس موقع پر کوآرڈینیٹر ایمرجسنی آپریشن سینٹر بلوچستان حمید اللل ناصر کا مزید کہنا تھا کہ انسداد پولیو مہم کے لئے سکیورٹی کے انتظامات بھی مکمل کرلئے گئے ہیں جس میں ضرورت کے مطابق بلوچستان لیویز اور پولیس کا عملہ بھی تعینات ہوگا اور فرنٹیئر کور(ایف سی) بلوچستان کی اضافی سکیورٹی فراہم کرے گی۔ والدین سے اپیل کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائیں اور بار بار پلائیں کیونکہ وائرس یہاں موجود ہے جو کسی بھی وقت ان بچوں پر حملہ آور ہوسکتا ہے
بلوچستان کے34اضلاع میں پانچ روزہ انسداد پولیو مہم13دسمبر سے شروع ہورہی ہے، حمید اللہ ناصر

ٹیگز:
حمید اللہ ناصر
