اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر)نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سینٹر جان محمد بلیدی نے سینٹ آف پاکستان میں مکران اور رکشان ڈویژن کے لوگوں کے بلاک شناختی کارڈز پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں شناختی کارڈز کی بندش سے مسائل جنم دے رہے ہیں انھوں نے کہاکہ بلوچستان برصغیر کا حصہ نہیں رہا ہے پاکستان سے قبل وہ ایک الگ ریاست تھی جس کے بارڈز ایران اور افغانستان سے ملتے تھے تو دونوں جانب کے لوگوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق اور رشتہ داری ہیں اور ایسی طرح گوادر بھی عمان کے سلطان کے زیر نگرانی رہا ہے لیکن جب گوادر واپس بلوچستان اور پاکستان میں شامل ہوا تو گوادر کے سینکڑوں لوگوں کے پاس عمانی شہریت ہے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ عمان کے ساتھ دوہری شہریت کا معاہدہ کرے تاکہ گوادر کے لوگوں کو مسائل میں مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ گوادر کے مقامی شہری بیک وقت عمان اور پاکستان دونوں کی شہریت رکھتے ہیں حالیہ حکومتی اقدامات سے وہ بری طرح متاثر ہیں ان کے بینک اکاونٹس بند ہوگے ہیں جس کی وجہ سے مسائل و مشکلات میں ہیں ایسی طرح دیگر علاقوں کے شہری ایران اور افغان کی شہریت کی وجہ سے مسائل کا شکار ہیں انھوں نے کہاکہ پاکستان کے دور کے ملکوں سے دوہری شہریت کے معاہدے ہیں لیکن اپنے ہمسایہ ممالک سے نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کو اس مسلے کے مکمل طور پر حل کرنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہاکہ نادرا کے ریکارڈ میں اگر خاندان کے ایک فرد کے پاس بھی اگر ایرانی شہریت نامہ ہے تو پورے خاندان کے شناختی کارڈز کو بلاک کردیا گیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے دیگر افراد کو اس مشکل سے نکالنے کے لیے ریاست ضروری اقدام اٹھائے۔
بلوچستان میں شناختی کارڈز کی بندش سے مسائل جنم دے رہے ہیں،بلوچستان برصغیر کا حصہ نہیں بلکہ ایک الگ ریاست تھی، سینٹر جان محمد بلیدی

ٹیگز:
سینٹر جان محمد بلیدی
