خضدار(این این آئی) خضدار کے سیاسی و قبائلی معتبرین حاجی عزیز سوز مینگل رئیس سلال سوز مینگل صدام مینگل شیر احمد مینگل نے خضدار میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ منظور احمد چنال (لیویز سپاہی) نے گزشتہ روز کوئٹہ پریس کلب میں چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری اور ہمارے خلاف پریس کانفرنس کی تھی وہ من گھڑت اور جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ عوام کے علم میں رہے کہ سن 1998ء میں اس نے رئیس غوث بخش سوز گزگی سے موضع شوکڑو مین کچھ زمین خریدی تھی۔ اس سے پہلے بھی منظور چنال لیویز سپاہی نے خضدار میں پریس کانفرنس کیا تھا اور اظہار کیا تھا کہ اس نے سن 1998ء میں ہمارے والد رئیس غوث بخش سوز سے زمین خریدی تھی، ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ منظور چنال لیویز سپاہی نے ہمارے والد سے قسطوں پر ایک قطعہ زمین خریدی تھی جس کی عدالت سے تصدیق شدہ دستاویز / بیع نامہ موجود ہے۔ منظور چنال لیویز سپاہی کو میرے والد نے جو زمین قسطوں پر دی تھی اس کے حدودات اور رقبہ کچھ اسطرح ہیں کہ شرقاًحد بائع رئیس غوث بخش سوز غرباً نیز حد بائع رئیس غوث بخش سوز شمالاً25 فٹ شوکڑو روڈجنوباً جھل و قبرستان و اراضیات ہم مالکان، جسکا رقبہ کچھ اسطرح سے ہے کہ مشرق سے مغرب تک 400گز شمال مشرق جنوب سے 150فٹ شمال مغرب سے جنوب 250فٹ۔ اس بابت مورخہ03/08/2000 کو ہمارے والد مرحوم نے اپنی حیاتی میں تحصیلدار خضدار کو ایک درخواست گزار کر اظہار کیا کہ انھوں نے موضع شوکڑو خضدار میں 6.5 ایکڑ اراضی پولیس لائن خضدار کے لئے دیا ہے جس کا معاوضہ انھیں تاحال جاری نہیں ہوا، جبکہ 8 ایکڑ اراضی قبرستان کے لئے وقف کرکے ایک پختہ کمرہ تعمیر کیا ہے اور ایک قطعہ اراضی منظور چنال لیویز سپاہی کو بذریعہ نمائندہ محمد حسین دیدیا ہے جس کی کھتونی منظور احمد چنال لیویز سپاہی کے نام نہیں ہوئی اور موصوف کے نام کرنا ہے۔ مذکورہ درخواست بھی ہمارے پاس بطور ثبوت موجود ہے۔ بعد ازاں ہمارے والد نے سن 2001ء میں کینسر کے عارضہ کے سبب وفات پاگئے۔ ہمارے والد صاحب کے مذکورہ درخواست کے باعث واضح ہے کہ منظور احمد چنال لیویز سپاہی کی جانب سے سن 1998ء میں کھتونی کا دعویٰ بے بنیاد و کذب بیانی پر مبنی ہے۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ منظور چنال لیویز سپاہی کے ماموں عبداللہ چنال نے 2004ء میں قاضی جھالاوان کی عدالت میں اسکی حدودات پر کیس دائر کیا کہ میں نے اور منظور چنال نے ایک ساتھ ملکر رئیس غوث بخش سوز سے 1998ء میں موضع شوکڑو میں زمین خرید لیا ہے جس پر منظور چنال اور اسکے بھائی نے جواب دعویٰ میں زمین کی حدودات تسلیم کئے اور کوئی اعتراض نہیں اٹھایا بلکہ یہ لکھ کر دیا کہ ہم نے اکیلے زمین خرید لیا ہے پھر حلف جنسی پر منظور چنال لیویز سپاہی نے عبداللہ چنال کا حق تسلیم کرکے 20 پلاٹ اسکے حصہ میں دینے کا راضی نامہ جمع کرکے کیس ختم کروایا۔منظور چنال لیویز سپاہی ایک زرخرید شخص ہے جبکہ ہم موضع شوکڑو کے جدی پشتی میراث مالکان ہیں۔ ہم اپنی ملکیتی اراضیات کسی بھی شخص کو دیں اس بابت منظور چنال لیویز سپاہی کو اعتراض کا کوئی حق حاصل نہیں ہے، اگر اس بابت موصوف کو کوئی اعتراض لاحق ہے تو وہ دیگر اشخاص کے خلاف کیس یا بیان بازی کے بجائے ہم زمین مالکان کے خلاف مجاز عدالتوں میں دعویٰ دائر کرے، کسی قبائلی میر معتبر یا شرعی عالم سے رجوع کرے۔ لیکن عدالتوں سے رجوع کرنے کے بجائے پروپیگنڈہ پر مبنی بیان بازی سے کام لینے لگا ہے۔ مورخہ08/10/2025 کو جب آخری تصدیق ہوئی تو ہم اور منظور چنال لیویز سپاہی موجود تھے جہاں ہم نے چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری کے خسرہ جات اور زمین کی حدودات کی تصدیق کردی اور منظور چنال لیویز سپاہی کے نام جو خسرہ جات درج ہوئے تھے انکے خلاف درخواست جمع کرکے اعتراض کیا کہ منظور چنال کو میرے والد نے زمین فروخت کی اس دستاویز کی حدودات کو پیمائش کرکے خسرہ جات درج ریکارڈ کیا جائے اور جو خسرہ جات منظور چنال لیویز سپاہی کو الاٹ کئے گئے ہیں وہ فوری منسوخ کئے جائیں۔ منظور چنال لیویز سپاہی کے خلاف میں نے سیٹلمنٹ آفیسر کی عدالت میں درخواست دی جس میں سیٹلمنٹ آفیسر کی عدالت میں چند پیشیاں بھی ہوئی ہیں اور عدالت نے منظور چنال لیویز سپاہی کو حکم دیا کہ اپنا جواب دعویٰ عدالت میں جمع کرے لیکن منظور چنال نے کوئی جواب دعویٰ نہ کوئی ددستاویز پیش کیا جس سے صاف ظاہر ہے کہ اسکے پاس ہمارے والد کا ایک ہی دستاویز لیکن اس نے تجاوز کرکے ہماری ملکیتی زیادہ اراضیات کو قبضہ کیا ہے جس پر عدالت کا فیصلہ ان شاء اللہ ہمارے حق میں آئیگا۔ منظور چنال لیویز سپاہی زرخرید ہے اگر وہ اپنا حق سمجھتا ہے ہم بنیادی مالکان ہیں ہمارے خلاف عدالتوں سے رجوع کرے اور علاقہ کے معزز و معتبر چیف آف جھالاوان سابق وزیر اعلٰی بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری کی ذات پر الزامات عائد کرنے سے باز رہے۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ منظور چنال لیویز سپاہی نے سیٹلمنٹ عمل کے دوران معزز عدالت قاضی جھالاوان خضدار اور عدالت مجلس شوریٰ خضدار میں دعویٰ جات قائم کئے جن کا فیصلہ موصوف کے خلاف اور چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری کے حق میں صادر ہوا۔ آخری تصدیق کے بعد موصوف نے سیٹلمنٹ آفیسر کی عدالت میں اپیل دائر کی اور وہاں بھی موصوف کے خلاف فیصلہ صادر ہوا۔ جبکہ اب بھی سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو بلوچستان کوئٹہ کی عدالت میں معاملہ زیر سماعت ہے، جہاں حقیقت کا سامنا کرنے کے بجائے منظور چنال لیویز سپاہی غلط بیانی سے کام لیکر جھوٹے پریس کانفرنس کرنے کا سلسلہ شروع کرچکا ہے جو کہ حقیقت کے برعکس ہیں اور ہماری روایات کے بھی منافی ہیں۔ 1967ء کے لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت اصل مالکان سے تصدیق کرانا لازم ہے۔ امید واثق ہے کہ جنابSMBR صاحب کی عدالت سے انصاف پر مبنی ایک فیصلہ صادر ہوگا اور حقدار کی حق دہی کی جائیگی اور غاصب کو باطل قرار دیدیا جائیگا۔ اس سلسلے میں ہم جناب چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر صاحب، وزیر اعلیٰ بلوچستان جناب میر سرفراز بگٹی صاحب، جناب چیف سیکریٹری صاحب بلوچستان کوئٹہ، آئی جی پولیس بلوچستان کوئٹہ، جناب کمانڈنٹ صاحب ایف سی قلات سکا?ٹس، جناب کمشنر صاحب خضدار ڈویڑن اور جناب ڈپٹی کمشنر صاحب ضلع خضدار سے اس پریس کانفرنس کے توسط سے اپیل کرتے ہیں کہ منظور احمد چنال لیویز سپاہی کو عدالتی فیصلہ جات کا پابند کیا جائے اور ہماری اراضیات پر غاصبانہ قبضہ اور علاقہ کے معزز و معتبر چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری پر بے بنیاد الزامات عائد کرنے سے باز و ممنوع رکھا جائے۔
منظورچنال دروغ گوئی سے کام لے رہاہے، وہ خود لینڈ مافیا کا سرغنہ ہے،حاجی عزیز سوز مینگل

ٹیگز:
حاجی عزیز سوز مینگل
