زیارت (ڈیلی گرین گوادر)،پشتونخوا ملی عوامی پارٹی زیارت شہر غوسکی علاقائی یونٹ کے زیرِ اہتمام ایک بڑے شمولیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے کی۔تقریب کے دوران 25 نوجوانوں نے مختلف سیاسی جماعتوں سے مستعفی ہوکر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی سیاسی جدوجہد کا حصہ بننے اور پارٹی کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا۔شمولیتی تقریب سے پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال، صوبائی سیکرٹری کبیر افغان، ضلعی مالیات سیکرٹری محمد دین کاکڑ اور سردار زادہ عیسیٰ خان نے خطاب کیا، جبکہ تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت محمد ابراہیم نے حاصل کی۔مقررین نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے نوجوانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ نوجوان کسی بھی سیاسی تحریک کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کی شمولیت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جمہوری، قومی اور سیاسی جدوجہد کو مزید تقویت بخشے گی۔ اس موقع پر نئے شامل ہونے والے نوجوانوں کو پارٹی پرچم کے ہار پہنا کر مبارک باد دی گئی۔تقریب میں سردار قاسم خان سارنگزئی، پارٹی تحصیل زیارت کے صدر حاجی ہارون پانیزئی، داؤد خان اور دیگر پارٹی رہنماؤں و کارکنوں نے شرکت کی۔نئے شامل ہونے والوں میں ملک نوید احمد، عبدالحکیم، مدثر خان، محمد طارق، اللہ نور، شکر الدین، عزیز احمد، محمد عیسی، جمعہ خان، عطاء اللہ، دریا خان، احسان اللہ، محیب اللہ، شاہ محمد، غلام جان، خیال محمد، محمد ایوب، ظہر اللہ بہاول خان، شاہستہ خان، ہمت خان، دولت خان، عالم خان، شادی خان اور دیگر شامل تھے۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں جاری بدامنی، مائنز ومنرل قبضہ کرنے کے لیے ضلع زیارت اور ضلع ہرنائی کی حد بندی پر مال مویشی چوراہوں کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا جب سینکڑوں کے حساب دیگر کی آئے روز ایف سی اعلان کرتی چلی آئی ہے ان پر حملہ نہیں کیا جاتا جس سے واضح ہے کہ لوگوں کو علاقے سے نکالنا ہے۔ اور پرسوں ایک چرواہے کی محمد مہربان کی شہادت اور دو چرواہوں فیروز خان اور منظور احمد کو زخمی کرنے کا مقصد قبضہ گیری کی سازش ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک ہمہ جہت بحرانوں میں گر چکا ہے، سیاسی عدم استحکام اپنے عروج پر ہے اور زروزور کے مسلط ٹولہ کرپشن اور لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ ملک کے آئین کی پائمالی، جمہورکی حکمرانی، پارلیمنٹ کی خودمختاری سنگین مذاق بناد گیا ہے۔ وفاق اور وفاقیت تسلیم کرنے کی باتوں کو ریاست مخالف بیانیہ گردانا جارہا ہے۔ محمود خان اچکزئی کا آئینی، سیاسی جمہوری بیانیہ ملک کے عوام جان چکے ہیں لیکن صد افسوس کہ اسمبلی اس کے سمجھنے سے قاصر ہے۔ فارم47کی مسلط حکومت اور افراد واشخاص کی منشاء نہ جمہوریت ہے اور نہ وفاقیت ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ملک میں بہترین شہری ذمہ دار فرد گردانا جاتا ہے جو سب سے زیادہ جھوٹ بولتا ہے۔ کرپشن کرتا ہے، رشوت لیتا ہے اور عوام کے خزانے کی لوٹ مار کرتا ہے۔ یہ صرف ہماری تقریریں نہیں دنیا کے مختلف ایجنسیوں کے مسلسل رپورٹس جاری ہورہی ہے اور پاکستان آئے دن بین الاقوامی رینکنگ میں تیزی سے نیچے جارہا ہے۔ اور ملکی وقار ملیامٹ کیا جارہا ہے۔ سیاست اور سیاسی پارٹیوں کو ختم کرنے اور سرکاری ملازمین سے ملک چلانے کی سازش سب کے سامنے ہیں۔ میڈیا پر پابندی دراصل حقائق چھاپنے اور عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ملک کے 25کرورڑ عوام مکمل آگاہی حاصل ہوچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے ہمہت جہت بحرانوں سے نکالنے اور ملک کو ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے محمود خان اچکزئی کا قائدانہ رول اور کردار نے اُنہیں ملک کے جمہوری صف کا عظیم رہبر بنادیا ہے۔ ہم اپنے قائد کے آئینی سیاسی جمہوری وطن دوست کردار پر فخر کرتے ہیں اور ملک کے سیاسی جمہوری وطن دوست پارٹیوں سے اُمید کرتے ہیں کہ وہ آئینی سیاسی جمہوری وطن دوست کردار کے لیے آگے آئیں اور ملک کے بحرانوں کا خاتمہ کریں۔
انہوں نے نئے آنے والے تمام سیاسی کارکنوں کو دل کی اتاہ گہراہیوں سے خوش آمدید کہا اور ان سے توقع ظاہر کی کہ وہ اپنے قومی سیاسی جمہوری پارٹی اور اس کے عظیم رہبر کی قیادت میں پشتونوں کی ملی وحدت، ملی تشخص اور اپنے قومی وسائل پر اختیار کے لیے جدوجہد کو آگے بڑھائیں اور آج کی صورتحال میں سرکاری سرپرستی میں جاری دہشت گردی، بدامنی کا قلع قمع کریں اور پشتونخوا وطن کو امن کا گہوارہ بنادیں۔ پروگرام کے اختتام پر نئے شامل ہونے والے نوجوانوں کے اعزاز میں چائے پارٹی کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔

