کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے زیر اہتمام 23 ستمبر پشتون کلچر ڈے کے موقع پر آج کوئٹہ پریس کلب میں مختلف پروگرام منعقد کیے گئے، جن میں تصویری نمائش، علمی سیمینار، ملی شہید ایوارڈ کی تقریب رونمائی اور مشاعرے کا انعقاد شامل تھا۔ ان پروگراموں میں پارٹی رہنماؤں، دانشوروں، فنکاروں، ادیبوں، شاعروں، طلبہ و طالبات، وکلاء، ڈاکٹروں، انجینئرز، تاجروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔صبح کوئٹہ پریس کلب ہال میں تصویری نمائش کا انعقاد کیا گیا، جس کا افتتاح پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سینئر سیکرٹری سید عبدالقادر آغا ایڈووکیٹ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، سندھ کے صوبائی صدر صدیق آغا اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے کیا۔ افتتاح کے بعد پارٹی رہنماؤں نے نمائش میں رکھی گئی مختلف پینٹنگز اور تصاویر کا معائنہ کیا اور فنکاروں کے تخلیقی کام کو سراہا۔ اس موقع پر مختلف فنکاروں میں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے گئے۔پارٹی رہنماؤں نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پشتون کلچر ڈے کے موقع پر اولس آرٹس کونسل کی جانب سے پینٹنگز اور تصاویر کی نمائش کا انعقاد قابلِ تحسین اور قابلِ دید ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنونِ لطیفہ کسی بھی قوم کی تاریخ، تہذیب، ثقافت، روایات اور اجتماعی زندگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ نمائش میں خواتین کی بھرپور شرکت اور ان کی جانب سے بڑی تعداد میں پینٹنگز کی تیاری قابلِ ستائش ہے، جس پر خواتین فنکاروں اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا۔بعدازاں سہ پہر تین بجے پشتون کلچر ڈے کے حوالے سے ایک علمی سیمینار منعقد ہوا، جس کی صدارت پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے کی۔ سیمینار سے پارٹی کے مرکزی سینئر سیکرٹری سید عبدالقادر آغا ایڈووکیٹ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، صوبائی سیکرٹری خوشحال کاسی، سندھ کے صوبائی صدر سید صدیق آغا، رفیع اللہ پشتون اور دیگر مقررین نے خطاب کیا، جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ندا سنگر نے انجام دیے۔مقررین نے اپنے خطاب میں پشتون ثقافت کی تاریخی اہمیت، قومی تشخص، زبان، ادب، فنون، روایات اور اقدار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ثقافت کسی بھی قوم کی قومی شناخت اور اجتماعی زندگی کا بنیادی آئینہ ہوتی ہے۔ پشتون کلچر ڈے منانے کا مقصد اپنی تاریخ، تہذیب، زبان، ادب اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنا اور نئی نسل کو اپنی قومی شناخت سے روشناس کرانا ہے۔اس موقع پر بلوچستان انٹرنیشنل تھنک ٹینک اور انٹرنیشنل سوسائٹی آف آرٹ فرینڈشپ پاکستان کی جانب سے ملی شہید عثمان خان کاکڑ کے نام سے منسوب ایوارڈ کی تقریب رونمائی بھی منعقد ہوئی۔ ادارے کے سربراہ اویس جدون نیعلامتی طور پر ایوارڈز تقسیم کیے۔ تقریب میں پارٹی رہنماؤں کو ملی شہید عثمان خان کاکڑ کے نام سے منسوب گولڈ میڈلز پیش کیے گئے اور ان کی قومی و سیاسی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔پروگرام کے آخری حصے میں پشتون کلچر ڈے کے حوالے سے مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف شعراء نے اپنے اشعار پیش کیے اور پشتون ثقافت، قومی تشخص، زبان، ادب اور روایات کے مختلف پہلوؤں کو اپنے کلام کے ذریعے اجاگر کیا۔ مشاعرے کی نظامت کے فرائض نور آغا درانی نے انجام دیے۔پارٹی رہنماؤں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پشتون کلچر ڈے ایک اہم تاریخی اور قومی دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2015 میں پشتو انٹرنیشنل ادبی، علمی کانفرنس منعقدہ کوئٹہ میں ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی کہنے پر نصراللہ خان زیرے نے کانفرنس کے سامنے پشتون کلچر ڈے منانے کی تجویز رکھی، جس کے نتیجے میں پشتو ادبی عالمی کانفرنس نے 23 ستمبر کو پشتون کلچر ڈے منانے کا فیصلہ کیا اور گزشتہ گیارہ سالوں سے ملک اور دنیا بھر کے مختلف حصوں میں یہ دن منایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند امر ہے کہ سندھ حکومت نے بھی باقاعدہ طور پر پشتون کلچر ڈے منانے کا فیصلہ کیا ہے اور آج سندھ میں بھی یہ دن منایا جا رہا ہے۔ اسی طرح پشتون بلوچ صوبے میں بھی سرکاری سطح پر پشتون کلچر ڈے منایا جا رہا ہے۔ انہوں نے خیبرپشتونخوا کے حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بھی سرکاری طور پر 23 ستمبر کو پشتون کلچر ڈے منانے کا اعلان کریں۔ جبکہ آج مختلف سیاسی جماعتیں، ادبی و ثقافتی تنظیمیں اور عوامی حلقے بھی اس دن کی مناسبت سے تقریبات منعقد کر رہے ہیں۔پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ پشتون کلچر ڈے محض ایک ثقافتی تقریب نہیں بلکہ اپنی قومی تاریخ، شناخت، زبان، ادب اور تہذیبی ورثے سے وابستگی کے اظہار کا دن ہے۔ پشتون قوم کی تاریخ امن، رواداری، بہادری، مہمان نوازی، علم دوستی اور انسانی اقدار سے عبارت ہے، جنہیں اجاگر کرنا اور نئی نسل تک منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال جنوبی پشتونخوا کے مختلف علاقوں، بالخصوص زیارت، ہنہ اوڑک، میزئی اڈہ، سرانان، زیارت کراس اور ہرنائی شاہرگ سمیت دیگر مقامات پر پیش آنے والے المناک واقعات اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں، خصوصاً سوات میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر پشتون کلچر ڈے سادگی اور وقار کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ ان حالات میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی اور عوام کے احساسات کو مدنظر رکھتے ہوئے تقریبات کو سادہ مگر بامقصد انداز میں منعقد کیا گیا۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پشتون قوم کی زبان، ثقافت، تاریخ، ادب اور قومی شناخت کے تحفظ و فروغ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے قومی شعور،قومی اتحاد و اتفاق، قومی دلیری، سیاسی بیداری اور اجتماعی وابستگی کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔پشتون کلچر ڈے کے سلسلے میں منعقدہ پروگرام صبح سے شام تک جاری رہے، جن میں تصویری نمائش، سیمینار، ایوارڈ تقریب اور مشاعرے کے ذریعے پشتون ثقافت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا۔
ثقافت کسی بھی قوم کی قومی شناخت اور اجتماعی زندگی کا بنیادی آئینہ ہوتی ہے، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

