کراچی (ڈیلی گرین گوادر) حلقۂ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل و نگران میڈیا سیل ثمینہ سعید نے پٹرولیم مصنوعات، بجلی، گیس اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے خلاف کراچی میں منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی معاشی پالیسیوں نے عوام، بالخصوص خواتین اور متوسط و غریب طبقے کی زندگی کو ناقابلِ برداشت بنا دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات پر عائد غیر ضروری ٹیکس اور لیوی ختم کرے، بجلی، گیس اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں کمی لائے اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کرے۔ ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ پاکستان بے پناہ قدرتی وسائل، قیمتی معدنیات اور منفرد جغرافیائی اہمیت کا حامل ملک ہے، لیکن بدانتظامی، کرپشن اور ناقص معاشی حکمت عملی نے اسے مہنگائی، بے روزگاری اور قرضوں کے گرداب میں دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی تقریباً پچیس فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ خواتین برداشت کر رہی ہیں، کیونکہ گھر کا بجٹ، بچوں کی خوراک، تعلیم، علاج اور گھریلو ضروریات کی ذمہ داری انہی کے کندھوں پر ہوتی ہے۔ اگر خواتین کی غذائی ضروریات پوری نہیں ہوں گی تو وہ خاندان کی بہتر دیکھ بھال کیسے کر سکیں گی؟ انہوں نے کہا کہ معاشی بدحالی نے لاکھوں خاندانوں کو ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور گھریلو تنازعات میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ طلاق اور خلع کے بڑھتے ہوئے واقعات بھی معاشی مشکلات سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ حکومت نمائشی منصوبوں کے بجائے عوام کی زندگی میں حقیقی بہتری لانے والی دیرپا معاشی اصلاحات متعارف کرائے۔ انہوں نے زور دیا کہ سود پر مبنی معاشی نظام نے ملک کو قرضوں اور مہنگائی کے دلدل میں دھکیل دیا ہے، جبکہ اسلامی اصولوں پر مبنی سود سے پاک معیشت ہی پاکستان کے معاشی استحکام اور خوشحالی کی ضمانت بن سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی غلط معاشی ترجیحات کے باعث پٹرول، بجلی، گیس اور روزمرہ استعمال کی ہر چیز عوام کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہے، جبکہ وزراء کی مراعات اور سرکاری اخراجات میں مسلسل اضافہ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ڈاکٹر حمیرا طارق نے خواتین کی تعلیم اور صحت کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی 52 فیصد بچیاں اور خواتین تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ تقریباً 42 فیصد خواتین بنیادی صحت کی سہولیات تک رسائی نہیں رکھتیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری گرلز سکولوں میں ہزاروں نشستیں خالی پڑی ہیں اور ہر سال داخلوں میں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ مہنگائی نے تعلیم کے دروازے بھی غریب خاندانوں پر بند کر دیے ہیں۔ جب گھر کا چولہا جلانا مشکل ہو جائے تو سب سے پہلے بچوں کی تعلیم قربان ہوتی ہے۔ خواتین کی تعلیم اور صحت پر سرمایہ کاری کیے بغیر ترقی اور خوشحالی کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ڈپٹی سیکرٹری جنرل و نگران میڈیا سیل ثمینہ سعید نے اپنے خطاب میں کہا کہ مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ آٹا، دالیں، چاول، دودھ، مشروبات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور والدین اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی فراہم کرنے کے لیے پریشان ہیں۔ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے ہر شعبۂ زندگی کو متاثر کیا ہے اور ہر نئی قیمت کے ساتھ مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی اب صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی بحران بن چکی ہے۔ عوام کو صاف پانی، صفائی، بجلی، گیس اور دیگر بنیادی شہری سہولیات میسر نہیں، جبکہ ترقی کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ شدید گرمی میں بھی گیس بحران برقرار ہے، تو سردیوں میں عوام کی مشکلات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اگر حکومت نے عوامی مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں مسلسل نظر انداز کیا تو ملک مزید معاشی اور سماجی عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔احتجاجی مظاہرے کے اختتام پر مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد غیر ضروری ٹیکسوں اور لیوی کو فوری ختم کر کے قیمتوں میں نمایاں کمی کی جائے، بجلی، گیس اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم کی جائیں، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے، سود سے پاک دیرپا معاشی اصلاحات نافذ کی جائیں اور عوام دوست معاشی پالیسیاں اختیار کر کے ملک کو معاشی بحران سے نکالا جائے۔
مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا، عوام کو زندہ رہنے کا حق دیا جائے : ڈاکٹر حمیرا طارق، ثمینہ سعید

