مظفرگڑھ (ڈیلی گرین گوادر) حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کے “ہر دل تک قرآن پراجیکٹ” کی مرکزی نگران ڈاکٹر انیلا محمود نے ایک روزہ دورۂ مظفرگڑھ کے دوران قرآن انسٹیٹیوٹ شہزاد نگر میں منعقدہ مرکزی نظم برائے فہم القرآن کے اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم صرف تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات اور انقلاب کی کتاب ہے، جس کے پیغام کو ہر فرد تک پہنچانا امت کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔اپنے خطاب میں انیلا محمود نے کہا کہ ملک بھر میں فہم القرآن کورس کو غیر معمولی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بندگیِ رب کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو اسی طرح اختیار کیا جائے جس طرح وہ نازل کیے گئے ہیں، جبکہ اطاعتِ رسول ﷺ اس بندگی کی عملی تعبیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن ہمیں زندگی کے معاشی، معاشرتی، عدالتی، قانونی اور سیاسی نظام کے بارے میں جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اسے سمجھ کر عملی زندگی میں نافذ کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ “قرآن دلوں کو بدلنے، معاشروں کی اصلاح کرنے اور انسانیت کو ہدایت دینے آیا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن کا پیغام گھروں، محلوں، تعلیمی اداروں اور معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچایا جائے تاکہ فکری انتشار، اخلاقی زوال اور سماجی مسائل کا مؤثر حل ممکن ہو سکے۔”اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے معاون جنوبی پنجاب صغریٰ حاکم نے جماعت اسلامی کے تعارف اور دعوتی مشن پر روشنی ڈالی اور کہا کہ جماعت اسلامی قرآن و سنت کی تعلیمات کو عام کر کے ایک صالح اور فلاحی معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔بعد ازاں انیلا محمود نے مربیات اور مدرسات کے ساتھ خصوصی نشست کی جس میں انہوں نے فہم القرآن کورس کی تدریس، اسماء الحسنیٰ اور دعوتی ٹاسک کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کی ہدایات دیں۔ انہوں نے قرآن کے پیغام کو دل نشین اور مؤثر انداز میں عام کرنے پر مربیات کی حوصلہ افزائی کی اور ان کی کاوشوں کو سراہا۔دوپہر کے اجلاس میں قرآن سے تعلق کو مزید مضبوط بنانے اور “ہر دل تک قرآن” مشن کو وسیع پیمانے پر پھیلانے کے لیے اسٹریٹجک پلاننگ کرائی گئی۔ اس موقع پر سٹڈی سرکلز کے انعقاد، جدید تدریسی تکنیکوں، دعوتی سرگرمیوں اور مؤثر ابلاغ کے حوالے سے عملی تربیت دی گئی۔ مختلف موضوعات پر تفہیم القرآن کی روشنی میں سرگرمیاں کروا کر تدریسی صلاحیتوں کو مزید نکھارا گیا۔ انیلا محمود نے کہا کہ فہم القرآن کی تحریک محض ایک تعلیمی سرگرمی نہیں بلکہ معاشرے کی فکری اور اخلاقی تعمیر کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے تمام مربیات اور مدرسات پر زور دیا کہ وہ اخلاص، مہارت اور پابندیِ وقت کے ساتھ اس عظیم مشن کو آگے بڑھائیں تاکہ قرآن کا پیغام زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچ سکے۔دورے کے اختتامی مرحلے میں ضلعی ناظمات کے ساتھ خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں تنظیمی امور، آئندہ منصوبہ بندی اور دعوتی اہداف کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس خوشگوار اور منظم ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔
ہر دل تک قرآن پہنچانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، قرآن ہی اندھیروں میں روشنی اور انسانیت کی حقیقی رہنمائی ہےـ انیلہ محمود

ٹیگز:
انیلہ محمود
