حب(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ایڈوکیٹ جاڑیں دشتی اور حب ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ حمل خان مری نے کہا ہے کہ حب بار کو سیاسی انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور حب میں پولیس گردی چل رہی ہے،حب پولیس کا وکلاء سے ساتھ رویہ نامناسب ہے وکلاء کو گرفتار کرنے کیلئے بکتر بند گاڑیاں لائی گئیں،پولیس کا معزز وکلاء کے ساتھ یہ رویہ ہے تو عام آدمی کے ساتھ کیسا ہوتا ہوگا،حب پولیس کا کام لوگوں کے جان ومال کا تحفظ کرنا نہ کہ شریف النفس شہریوں کو تنگ کرنا ہے،لہٰذا گزشتہ دنوں وکلاء کے خلاف جو FIRقائم کئے گئے ہیں انہیں فوری ختم کیا جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے حب بار کابینہ کے عہدیداران واراکین سمیت وکلاء کے ہمراہ حب بار میں ایک پْر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا پریس کانفرنس کرتے ہوئے حب بار کے صدرایڈوکیٹ حمل خان مری نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ گذشتہ روز جنرل الیکشن سال 2024 کے دن ہونے والے ایک واقع پر مقدمہ درج ہو ا تھا جس میں 33 ملزمان کو نامز د کیا گیا تھا اس سیاسی مقدمے کا فیصلہ معزز عدالت سیشن جج نے سنایا جس میں کئی دیگر ملزمان شامل تھے سیشن جج نے فیصلہ سناتے ہوئے ایک نامزد ملزم کو 8 سال سزاسنائی جبکہ باقی تمام ملزمان کو باعزت بری کیا ہم بطور کونسل / وکیل اپنے موکلان کی دفاع قانون کے مطابق کرتے آرہے تھے اور مورخہ 20 مئی کو بھی
اپنے موکلان کے ساتھ موجود تھے نہ صرف میں بلکہ حب بار ایسوسی ایشن کے کئی وکلا بھی ہمارے ہمراہ موجود تھے اور اس مقدمے میں 30سے زائد لوگ موجود تھے اور اس کے علاوہ جب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کی عدالت میں سینکڑوں سائلین اپنی دادرسی کے لیے آتے ہیں اور اسی دن بھی عوام کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جب معزز عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا تو باقی تمام ملزمان چوں کہ باعزت بری ہو چکے تھے وہ معزز عدالت کے کمرے سے باہر نکل آئے اور ایک ملزم جسکو سزا سنایا گیا تھا وہ بھی کمرہ عدالت سے باہر آئے اور وہ اپنے گھر وں کو چلے گئے اور وکلاء نے اپنی قانونی اور آئینی جنگ لڑی اور پورے دوسال تک ان مقدمات کی پیروی کی اور کبھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی، معزز عدالت کے فیصلہ کے بعد اب ذمہ داری پولیس اور انتظامیہ کی تھی کہ وہ اپنی دائرہ میں رہ کر اپنی ذمہ داری نبھائیں اور کسی بھی سزا پانے والے شخص کو فوری گرفتار کرے مگر در جنوں پولیس اہلکار اپنی ہی غفلت، لا پرواہی، غیر ذمہ داری کا الزام ہم وکلا پر ڈال دیا گیا اور ہمیں ایک جعلی، نا جائز، غیر قانونی ایف آئی آر میں نامز د کیا گیا، پولیس وانتظامیہ کی نا اہلی کاا اندازہ اس بات سے لگالیں کے ہمارے ایک معزز ممبر سکندر مری ایڈوکیٹ جو کہ 20 تاریخ کو اپنے مقدمات کی پیروی کرنے اوتھل گئے تھے ان کے عدالتوں میں حاضری کے ڈائری شیٹ موجود ہیں وہ حب میں ہی موجود نہ تھے ان کا نام بھی اس جعلی ایف آئی آر میں شامل کیا گیا جو کہ پولیس کی جانبداری، ناجائز اقدامات کا واضح ثبوت ہے انھوں نے کہا کہ حب بار ایسوسی ایشن ایک مضبوط ادارہ ہے جو کسی پولیس کی ناجائز اقدامات اور جانبداری کا بھر پور جواب بھی دے گی اور پولیس و انتظامیہ کے خلاف بھر پور مزاحمت بھی کرے گی وکلا کی و قار، بقا کو چیلنج کیا جا رہا ہے لیکن ہم مزاحمت کریں گے اور مزاحمت کی تاریخ ہم وکلا سے شروع ہوئی اور وکلا کی جد و جہد اور مزاحمت پر انشا اللہ ختم ہو گی ہم پولیس اور انتظامیہ کے ان اقدامات کی پر زور انداز میں مذمت کرتے ہیں اور واضح طور پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ اگر وکلا کے ریڈ لائن کو عبور کرنے کی کوشش کی تو وکلا اپنے بقا کی جنگ ضرور لڑیں گے مگر کسی اور کی نااہلی اور غفلت کی ذمہ داری قطعا ًہم پر نہ ڈالی جائے انھوں نے کہا کہ اس وقت ہماری ہڑتال جاری ہے وکلا شاید تالا بندی کے طرف جائیں گے اور احتجاج کا راستہ بھی اپنائیں گے فل حال ہماری مشاورت کا عمل بھی ساتھ ساتھ چل رہا اگر پولیس نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو ہر آپشن زیر غور ہے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ SHOحب سٹی کی مدعیت میں وکلاء پر FIRدرج ہونا سمجھ سے بالا تر ہے کیونکہ عدالت ایریا بیروٹ پولیس کی حدود میں آتا ہے اگر FIRہونا تھا تو بیروٹ پولیس کی مدعیت میں ہوتا انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حب کے وکلاء کو سیاسی انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے انھوں نے اعلیٰ حکام سے واقعہ کا نوٹس لینے اور SHOحب سٹی کو ہٹا کر انکے خلاف انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا اس موقع پر بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ایڈوکیٹ جاڑیں دشتی نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حب بار کو سیاسی انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا گیا ہے پولیس کاکام FIRدرج کرنا اورعدالت کی جانب سے سزا کا فیصلہ کے بعد ملزمان کو گرفتار کرنا پولیس کا کام ہے انھوں نے کہا کہ پولیس نے جس طرح حب کے وکلاء کے خلاف FIRدرج کئے ہیں اس حوالے سے آئی جی پولیس بلوچستان کو لیٹر لکھا گیا ہے انھوں نے کہا کہ وکلاء جس مقدمے کو لڑ رہے ہیں پولیس نے ان ہی کے خلاف FIRدرج کی ہے انھوں نے کہا کہ پولیس کا کام لوگوں کو تحفظ دینا ہے نہ کہ سیاسی انتقال کا نشانہ بنا ہے اگر پولیس نے اپنے رویئے میں تبدیلی نہیں لائی تو بھر پور احتجاج کیا جائے وکلاء پولیس گردی سے ڈرنے والے نہیں اور قانون کے دائر کار میں رہتے ہوئے اپنے کام کررہے ہیں۔
حب بار کو سیاسی انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور حب میں پولیس گردی چل رہی ہے،بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ایڈوکیٹ جاڑیں دشتی

ٹیگز:
بلوچستان بار کونسل
