کوئٹہ (پ ر) پشتونخوامیپ کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے صدارت تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہی اجلاس میں جمعہ کے روز ملک بھر میں بدترین مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے،سخت ترین بیروزگاری، ملک میں جاری دہشتگردی، بدامنی،لاقانونیت، عمران خان کو فوری ہسپتال منتقل کرنے اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے ملک گیر احتجاج کے فیصلے کی روشنی میں ملک بھر کی طرح صوبے کے مختلف ضلعی ہیڈکوارٹرز میں احتجاجی مظاہرے منعقد کیئے گئے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر اہتمام صوبے کے پشتون اضلاع میں کوئٹہ، پشین، چمن، قلعہ سیف اللہ،سبی، زیارت، لورالائی، ہرنائی، ژوب میں احتجاجی مظاہرے منعقد ہوئے۔ کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرہ اور جلسے کی صدارت پشتونخوامیپ کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے کی۔ احتجاجی جلسے سے پشتونخوامیپ کے صوبائی صدر عبدالقہار خان ودان، پی ٹی آئی مرکزی سینئر وائس صدر خاتون ونگ محترمہ منورہ بلوچ، مجلس وحدت المسلمین کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود ڈومکی صاحب، پی ٹی آئی ضلع کوئٹہ کے صدر سردار زین العابدین خلجی نے خطاب کیا۔ جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض پشتونخوامیپ کے صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان نے سرانجام دیئے۔ اور تلاوت کلام پاک کی سعادت علامہ ولایت حسین صاحب نے حاصل کی۔ مقررین نے کہا کہ فارم 47کے مسلط حکمرانو ں کو غیر جمہوری طرز عمل کے تسلسل کا عوام کو جواب دینا ہوگا، ملک کا متفقہ آئین پائمال ہوچکا ہے، عدلیہ کے پر کاٹ دیئے گئے ہیں، صحافت کا گلہ گھونٹا گیا ہے، جمہوری احتجاج پر قدغنیں، صوبے اور کوئٹہ میں ٹول پلازوں، چیک پوسٹوں پر عوام کو تنگ کیا جاتا ہے لیکن صوبہ بھر میں بدامنی، دہشتگردی کے کسی بھی واقعہ کا کوئی بھی ملزم پکڑا گیا ہے اور نہ پکڑا جاتا ہے، ملک میں جمہوریت کے عظیم قائد ین محمود خان اچکزئی، بانی پی ٹی آئی عمران خان اور علامہ راجہ ناصر عباس ہیں جنہیں عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور ہم ان کے ہر آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہر قسم کے سیاسی جمہوری احتجاج کے لیے ہمیشہ تیار رہیں گے۔ ملکی معیشت تباہ ہوچکی ہے، ملک میں گندم،اناج، فصلوں، میوہ جات کی قیمتیں جس طرح گرچکی ہے، صنعتیں، کارخانے بند ہوچکے ہیں ملک کے تمام عوام کو سوچنا ہوگا۔ چمن، بادینی اور تمام کراسنگ پوائنٹس پر تجارت بند کرنے کی صورتحال بین الاقوامی معاہدوں، عالمی قوانین اور بالخصوص ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ کسٹم کلیئرنس نظام نافذ کرکے باڈر ٹریڈ بحال کیا جائے اور اس کے بعد صوبے کے کسی بھی علاقے میں کسٹم، ایکسائز اور کسی بھی ادارے کو مارکیٹوں، دکانوں، تجارتی مراکز میں چھاپے مارنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، عمران خان کے معالجین اور خاندان کی مشاورت سے علاج ومعالجہ کو یقینی بنایا جائے۔ ملک کے آئین کو اصل حالت میں بحال اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کیا جائے، ملک کے تمام اداروں کو آئینی فریم کا پابند بنایا جائے، قوموں کی برابری پر مبنی حقیقی جمہوری فیڈریشن قائم کی جائے، 23مارچ1940کے قرارداد کے مطابق قوموں کے مشترکہ فیڈریشن کوتسلیم کرکے خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہونیوالے ون مین ون ووٹ کی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے عوام کے حق رائے دہی کا احترام کیا جائے۔ ملک پر مسلط حکمرانوں کی کرپشن، کمیشن، پرسنٹیج کے نتیجے میں پیدا ہونیوالی بدامنی، لاقانونیت، مہنگائی، بیروزگاری کا خاتمہ کیا جائے اور عوام کے سرومال کے تحفظ اور شاہراہوں پر جاری لوٹ مار کو ختم کیا جائے، کچے کے ڈاکوؤں کی جانب سے معصوم بچی کے اغواء کی مذمت کرتے ہیں اور سندھ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر معصوم بچی کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔ مقررین نے نئے آئینی ترمیم کے دوران حق رائے دہی کے استعمال کے لیے 25سال عمر قرار دینے کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور عوام کے خلاف گہری سازش کو مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسے نوجوانوں سے حق رائے دہی چھیننے کے مترداف قرار دیا۔ جیل میں بیٹھے قیدی عمران خان سے حکومت خوف میں مبتلا ہے اور حکومت کا یہ حربہ عوام قبول نہیں کرینگے اور ملک کے جمہوری تحریک کو غیر جمہوری اقدامات کے خلاف وسعت دینی ہوگی۔ مقررین نے کہا کہ عوام چوروں اور ڈاکوؤں کی حکومت سے نفرت کرتی ہے، ملک میں ڈاکو راج قائم ہے، کچے اور پکے کے ڈاکوؤں نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے
تحریک تحفظ آئین پاکستان کی کال پر ملک بھر کی طرح بلوچستان کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں بھی احتجاجی مظاہرے

ٹیگز:
پشتونخوامیپ
