کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ کے ضلع کمیٹی کا اجلاس صوبائی سینئر نائب صدر وضلع کوئٹہ کے سیکرٹری سید شراف آغا کے زیر صدارت پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹری ڈاکٹر حامد خان اچکزئی،صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان، صوبائی آفس سیکرٹری ملک عمر کاکڑ، صوبائی رابطہ سیکرٹری گل خلجی نے شرکت کی۔اجلاس پارٹی کی تنظیمی سیاسی امور، کوئٹہ میں عوام کو درپیش مسائل، بلدیاتی حلقہ بندیوں کو زیر غور لایاگیا۔ اجلاس میں ضلع ایگزیکٹیوز کی انفرادی اور چاروں تحصیلوں کی رپورٹس پیش کی گئی۔ تحصیل صدر کی رپورٹ تحصیل سیکرٹری نعیم پیر علیزئی،تحصیل سریاب کی رپورٹ تحصیل سیکرٹری نیاز خان بڑیچ، تحصیل کچلاغ کی رپورٹ تحصیل سیکرٹری ملک نادر کاکڑاور تحصیل سٹی کی رپورٹ تحصیل سینئر معاون سیکرٹری شکور افغان نے پیش کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جن علاقائی یونٹس کے کانفرنس رہتے ہیں ان کو مئی کے مہینے میں مکمل کیئے جائینگے اور جون کے مہینے میں تحصیل کانفرنسز کیئے جائینگے۔ ہر علاقائی یونٹ مزید دو نئے ابتدائی یونٹ قائم کریگی اور اپنے علاقائی یونٹس میں عوامی رابطہ مہم کے تحت شمولیتی پروگراموں کا انعقاد کریگی۔چمن میں عید کے چوتھے روز جلسہ عام میں شرکت کے لیے تمام علاقائی یونٹس اپنی تیاری کرے اور عید الضحیٰ کے موقع پر پشتونخوا بلڈ بنک کے لیے اپنے عطیات، قربانی کے کالوں کو جمع کرنے کے لیے حکمت عملی طے کرے۔ اجلاس سے پارٹی رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر صرف اخباری بیانات اور جذباتی تقاریر سے مزدوروں کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونکا جاسکتا۔ مزدور آج چھٹی کے دن بھی اپنی مزدوری اور بچوں کی کفالت کے لیے گھر سے باہر نکلا ہے۔ عوام اس وقت بدترین حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ مزدوروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے حکومتی دعوے صرف کھوکھلے نعروں تک محدود ہیں، سرکاری ملازمین احتجاج پر ہیں، تاجر، مزدور، ٹرانسپورٹر، وکلاء، ڈاکٹرز، طلبہ تمام شعبوں سے منسلک افراد ناقص طرز حکمرانی، بنیادی سہولیات اور اپنے جائز حقوق سے محرومی پرسراپا احتجاج ہیں۔ جبکہ مسلط نام نہاد حکومت شروع دن سے ٹال مٹول اور اپنے آمرانہ طرز فیصلوں کے ذریعے عوام کو اذیت سے دوچار کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کرپشن، کمیشن، اقرباء پروری، میرٹ کی دھجیاں اڑانے میں مصروف ہیں انہیں عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ تمام صوبے اور بالخصوص کوئٹہ شہر کے عوام آج بھی پینے کے صاف پانی کی کمی، بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، صحت و صفائی کے ناقص انتظامات، ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکیں، گیس پریشر کی کمی اور سیوریج کا ناکارہ نظام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر رہا ہے۔جبکہ متعلقہ محکموں سے بارہا اس کا نوٹس لینے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے زور دیا گیا ہے لیکن نام نہاد نمائندوں کی عدم دلچسپی اور متعلقہ حکام کی غیر سنجیدگی کے باعث ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ پارٹی ایک بار پھر مطالبہ کرتی ہے کہ ان عوامی مسائل کے حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں اورقابلِ عمل حکمت عملی مرتب کریں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ دوسری جانب شہر میں بڑھتے ہوئے سٹریٹ کرائمز، چوری اور ڈکیتی کے واقعات نے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ یہ امر نہایت تشویشناک ہے کہ جرائم پیشہ عناصر منظم انداز میں سرگرم ہیں، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سیکیورٹی ادارے اپنی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنائیں، گشت میں اضافہ کریں، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنائیں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کریں تاکہ شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔کیونکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور اس ذمہ داری کو ہر صورت پورا کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں ضلعی انتظامیہ اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے انتظامیہ کی جانب سے بلا جواز بازاروں میں چھاپے مارنا، ریڑھی بانوں، دکانداروں کو تنگ کرنا، لوٹ مار، رشوت خوری، جیل میں رکھنے کے اقدامات کی پارٹی نہ صرف مذمت کرتی ہے بلکہ مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر اس ناروا اقدام کو ترک کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نواں کلی مین سڑک کی تعمیر کا کام ادھورا چھوڑ کر ٹھکیدار چلا گیا ہے جس کے باعث تمام علاقہ گردوغبار، سڑک کے ٹھوٹ پھوٹ کے باعث مشکلات سے دوچار ہیں۔ محکمہ بی اینڈآر فوری طور پر متعلقہ ٹھیکیدار کے کام کا نوٹس لیں اور مقررہ وقت پر جلد از جلد سڑک کی معیاری تعمیر کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں نو پارکنگ کے نام پرشہریوں کو لوٹا جارہا ہے، جب پارکنگ کے متبادل جگہ نہ ہوگی تو شہری گاڑی کہاں کھڑی کرینگے۔ ٹریفک پولیس پارکنگ کا بندوبست کرنے کے بعد شہریوں کو نو پارکنگ پر چالان دیں ایسے ناروا اقدامات سے عوام تنگ آچکے ہیں۔ ٹریفک پولیس پہلے ہی شہر میں لوٹ مار میں مصروف ہیں ہر چوراہے، سڑک پر موٹر سائیکل سوار، گاڑیوں والوں کو روکنے، مختلف حیلوں وبہانوں پر تنگ کرنے اور بھاری چالانیں دے رہیں معمولی چالان بھی 2500سے کم نہیں جبکہ تمام دستاویزات مکمل ہونے پر شہریوں سے خرچہ دینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے اس قسم کے مطالبات نہ صرف ٹریفک پولیس بلکہ انتظامیہ اور فورس کی بدنامی کا باعث بن رہی ہے جس کا نوٹس لینا آئی جی پولیس اور ایس پی ٹریفک پولیس کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔
عوام اس وقت بدترین حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں : سید شراف آغا

ٹیگز:
سید شراف آغا
