ہرنائی (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی (پشتونخوا نیپ) کے زیرِ اہتمام پیٹرولیم مصنوعات کی ہوشربا مہنگائی، سڑکوں کی خستہ حالی، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور امن و امان کی ابتر صورتحال کے خلاف جاری ملک گیر احتجاجی تحریک کے سلسلے میں ضلع ہرنائی میں ایک نہایت بھرپور، منظم، پُرامن اور مؤثر احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ اس احتجاجی مظاہرے میں عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان، مختلف سیاسی و سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور مقامی عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس سے علاقے کے عوام میں پائی جانے والی شدید بے چینی، اضطراب اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے غم و غصے کی واضح عکاسی ہوتی ہے۔ ریلی کا آغاز باچا خان چوک سے ہوا، جس کی قیادت پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ہرنائی کے ضلعی رہنماؤں حاجی دوران خان ترین، مظہر خان ترین، اتل خان قہرمان اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں ملک ابراہیم اور محمود شاہ نے مشترکہ طور پر کی۔ ریلی میں شریک کارکنان اور شہریوں نے پارٹی پرچم اٹھا رکھے تھے اور شہر کی مختلف شاہراہوں سے گزرتے ہوئے اپنے مطالبات کے حق میں بھرپور آواز بلند کی۔ شرکاء نے نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے پُرامن انداز میں احتجاج ریکارڈ کرایا اور اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے عزم کا اعادہ کیا۔ مظاہرین نے ہرنائی تا کوئٹہ روڈ اور ہرنائی تا سنجاوی روڈ کی مسلسل بندش، خستہ حالی اور عدم تعمیر پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ان اہم شاہراہوں کی ناگفتہ بہ حالت نے عوام کی روزمرہ زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سڑکوں کی تباہ حالی کے باعث نہ صرف آمد و رفت میں شدید رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں بلکہ تجارتی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو چکی ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی معیشت زوال کا شکار ہو رہی ہے۔ مریضوں کو بروقت ہسپتال پہنچانے میں دشواری، طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹ اور عام شہریوں کی مشکلات میں مسلسل اضافہ اس صورتحال کی سنگینی کو مزید بڑھا رہا ہے۔ مقررین اور مظاہرین نے ملک بھر میں جاری مہنگائی، بالخصوص پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اور ظالمانہ اضافے کو عوام دشمن پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بے تحاشا مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو ناقابلِ برداشت بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات براہِ راست اشیائے خوردونوش، ادویات اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں پر پڑے ہیں۔ اس تمام صورتحال کا سارا بوجھ غریب اور متوسط طبقے، محنت کشوں، سرکاری و نجی ملازمین اور چھوٹے کاروباری طبقے پر ڈال دیا گیا ہے، جو پہلے ہی شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ ریلی کے شرکاء نے ہرنائی میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات، چوری و ڈکیتی اور دیگر جرائم نے عوام کو عدم تحفظ کا شکار بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اپنی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے شدید خدشات کا شکار ہیں، جو حکومت کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری اور مؤثر اقدامات کرے اور ہرنائی سمیت پورے علاقے میں امن و امان کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام سکون اور تحفظ کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔ ریلی کے دوران مظاہرین نے فلک شگاف نعرے لگائے جن میں سڑکوں کی فوری تعمیر، مہنگائی کے خاتمے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور امن و امان کی بحالی کے مطالبات شامل تھے۔ مقررین نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ اگر عوامی مسائل کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی اور آئندہ کے لیے سخت ترین احتجاجی لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام اور حکومت پر عائد ہوگی۔ مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی عوام کے حقوق کے حصول، انصاف کی فراہمی اور بنیادی سہولیات کی دستیابی کے لیے ہر سطح پر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کسی بھی صورت عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ہر فورم پر ان کے مسائل کو بھرپور انداز میں اجاگر کرتی رہے گی۔ آخر میں ریلی پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوئی، تاہم شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار رہیں گے اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ہرنائی کا پیٹرولیم بے روزگاری اور امن و امان کی ابتر صورتحال کے خلاف احتجاجی ریلی

