کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو ملک کے غریب اور متوسط طبقے پر کمر توڑ مہنگائی مسلط کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اس عوام دشمن اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے معاشی استحکام پر براہِ راست حملہ ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی کا طوفان مزید شدت اختیار کرے گا اور عام شہری کی زندگی مزید مشکلات سے دوچار ہو جائے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات میں یہ ناروا اور غیر منصفانہ اضافہ نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ اشیائے خوردونوش، بجلی، گیس اور روزمرہ استعمال کی تمام بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنے گا، جس کا سارا بوجھ غریب عوام، محنت کشوں، سرکاری و نجی ملازمین اور چھوٹے کاروباری طبقے کو برداشت کرنا پڑے گا۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اس عوام دشمن فیصلے کے خلاف پارٹی کے زیرِ اہتمام ملک بھر اور پشتونخوا وطن کے مختلف اضلاع میں پُرامن احتجاجی مظاہرے، جلسے اور ریلیاں منعقد کی جائیں گی، جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔ 6 اپریل — لورالائی، 7 اپریل — قلعہ سیف اللہ، 8 اپریل — ژوب، 9 اپریل — مسلم باغ / دکی، 10 اپریل — ہرنائی، 11 اپریل — پشین، 12 اپریل — قلعہ عبداللہ / میزی اڈہ، 13 اپریل — سنجاوی، 14اپریل — زیارت، 15 اپریل — میختر، 16 اپریل — موسیٰ خیل، 17 اپریل — کوئٹہ۔ بیان میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس احتجاجی تحریک میں بھرپور شرکت کرکے اپنے جمہوری اور آئینی حقِ احتجاج کو استعمال کریں، جبکہ پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ احتجاجی پروگراموں کو منظم، پُرامن اور کامیاب بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔ مرکزی سیکریٹریٹ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ حکمران طبقے کی غلط معاشی پالیسیوں اور بے تحاشا بیرونی قرضوں نے ملک کو کھربوں روپے کا مقروض بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں ملکی معیشت عملاً بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دی گئی ہے۔ عوام دشمن ٹیکسوں کے نفاذ کے اختیارات عالمی مالیاتی اداروں کے حوالے کر دیے گئے ہیں، جبکہ ملکی وسائل اور آمدن کے بڑے ذرائع پر مقتدر اور بااثر معاشی طبقات کا کنٹرول برقرار ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پیٹرول، بجلی، گیس اور ملازمین کی تنخواہوں پر بھاری ٹیکس عائد کرکے تمام مالی بوجھ غریب عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ بڑے سرمایہ داروں، جاگیرداروں، لینڈ مافیا اور حکمران اشرافیہ کو مختلف ٹیکس چھوٹ حاصل ہے۔ ہر بجٹ میں قومی آمدن کا بڑا حصہ سیکیورٹی اخراجات، بیوروکریسی اور حکمران طبقے کی شاہ خرچیوں پر خرچ کیا جاتا ہے، جبکہ عوام کی فلاح و بہبود کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ بیان میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اب متبادل توانائی کے ذرائع جیسے سولر سسٹم پر بھی ٹیکس عائد کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جو عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مزید معاشی دباؤ میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ غیر ضروری سرکاری اخراجات، بیوروکریسی اور حکمران اشرافیہ کی مراعات میں کمی لا کر قومی وسائل کو عوامی فلاح، مہنگائی میں کمی اور بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں کو کم کرنے پر خرچ کیا جائے۔ بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ پیٹرول پر عائد اضافی اور عوام دشمن ٹیکس فوری طور پر واپس لیے جائیں اور اشیائے ضرورت پر ٹیکسوں میں کمی کرکے عوام کی معاشی استطاعت کے مطابق پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔ پارٹی نے تمام سیاسی و جمہوری قوتوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر پیٹرولیم مصنوعات پر ناروا ٹیکسوں کے خاتمے اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں۔ بیان کے آخر میں ایک بار پھر پارٹی کے تمام اضلاع اور علاقوں کے عہدیداران اور کارکنان کو ہدایت کی گئی کہ وہ پارٹی کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے احتجاجی جلسوں، جلوسوں اور مظاہروں کو کامیاب بنائیں، جبکہ عوام سے پرزور اپیل کی گئی کہ وہ بھرپور شرکت کرکے مہنگائی کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔
حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے معاشی استحکام پر براہِ راست حملہ ہے، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

