چمن (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ضلع چمن کی جانب سے آج کی پریس کانفرنس ایک نہایت سنگین انسانی مسئلے کے بارے میں ہے۔ گزشتہ تقریباً پانچ ماہ سے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور سرحدی بندش کی وجہ سے درجنوں پاکستانی شہری افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قانونی طریقے سے ویزا اور پاسپورٹ پر افغانستان گئے تھے، لیکن سرحدی صورتحال کے باعث اب تک واپس نہیں آ سکے۔ان مسافروں کے ویزے ختم ہو چکے ہیں، ان کے پاس مالی وسائل بھی ختم ہو چکے ہیں، اور وہ انتہائی مشکل حالات میں بے یار و مددگار افغانستان میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح، کچھ افغان شہری بھی پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال ایک انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے گزشتہ کئی مہینوں سے اس مسئلے کو مختلف فورمز پر اٹھایا ہے۔ ہم نے متعلقہ حکام اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں اور مسافروں کے پاسپورٹ اور دیگر تفصیلات بھی حکومت کو فراہم کیں، مگر افسوس کہ اب تک کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔اس وقت ماہِ رمضان کا آخری عشرہ جاری ہے اور چند دن بعد عیدالفطر آنے والی ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ ہمارے شہری اپنے گھروں سے دور مشکلات میں پھنسے ہوئے ہیں اور حکومت کی طرف سے ان کی واپسی کے لیے سنجیدہ اقدامات نظر نہیں آ رہے۔حکومت کی پالیسی میں واضح دوہرا معیار نظر آتا ہے۔ جب ایران، خلیجی ممالک، ازبکستان یا یوکرین میں پاکستانی شہری مشکل میں پھنس جاتے ہیں تو حکومت فوری اقدامات کرتی ہے، خصوصی پروازوں کا انتظام کرتی ہے اور انہیں بحفاظت واپس لاتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے چمن اور افغانستان کے ساتھ وابستہ شہریوں کے معاملے میں ایسی سنجیدگی نظر نہیں آتی۔مزید برآں، جو ٹرانسپورٹر پاکستان کی طرف سے افغان مہاجرین کو لے کر افغانستان گئے تھے، ان کی گاڑیاں اور ڈرائیورز بھی ابھی تک وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ان کی گاڑیاں اور ڈرائیورز کو بھی پاکستان واپس لانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ اسی پانچ مہینوں میں ہماری ادارے انسانی اسمگلنگ میں ملوث پائے گئے ہیں، اور یہ کام دن کی روشنی میں ہوتا ہے، غریب لوگوں سے پچاس ہزار سے دو لاکھ روپے تک لیے جاتے ہیں تاکہ انہیں بارڈر کراس کروایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ادارہ اس مسئلے کو حل نہیں کر رہا۔ہم واضح طور پر سمجھتے ہیں کہ یہ معاملہ انسانی حقوق اور پاکستانی شہریوں کے بنیادی حقوق سے متعلق ہے۔لہٰذا پشتونخوا ملی عوامی پارٹی حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ:
درجنوں پاکستانی شہری افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں ` انتہائی مشکل حالات میں بے یار و مددگار افغانستان میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں : پشتونخوا ملی عوامی پارٹی چمن

ٹیگز:
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی
