اسلام آباد (ڈیلی گرین گوادر)قائدحزب اختلاف تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمودخان اچکزئی نے سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے زیراہتمام افطار پارٹی میں شرکت کی اور پارٹی میں موجود شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس ملک اوراس خطے کو بچانا ہے، دنیا کوشش کر رہی ہے کہ لوگوں کے وسائل لوٹنے کے لیے ایک ایسے علاقے کو میدان جنگ بنایا جائے، جہاں ان کا یورپ محفوظ رہے جہاں ان کا امریکہ محفوظ رہے اور وہ خطہ خطرناک ترین اسلحے کا تجربہ گاہ ہو یہ ہم سب کی دانش کا امتحان ہے کہ ہم اپنے اس خطے کو دنیا کے اس ارد گرد مست سانڈوں کی ٹکر کا میدان بناتے ہیں یا نہیں۔ اس سلسلے میں ہمیں شہباز والوں سے بھی بات کرنی ہوگی کہ بھائی یہ بات آپ کے بس کی بات نہیں ہے یہ کام ایک آدمی سے نہیں ہو سکتا یہ ایک پارٹی کے ذریعے نہیں ہو سکتا ایک بہت خطرناک حالت ہے اگر کوئی ہماری بات سمجھ سکتا ہے شہباز بھائی مہربانی کریں ہمارا جو خطہ ہے ایران افغانستان چین یہ سب ازبکستان تاجکستان ان سب کی مشترکہ ایک میٹنگ بلائیں کہ یہ جو سمندروں میں خطرناک بیڑے ا ٓرہے ہیں اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ ورنہ خدانخواستہ پھر دیر ہو چکی ہوگی پھر ہم سب جس طرح خرگوش ایک ایک شکاری سے اپنے اپ کو ادھر ادھر چھپاتا پھرتا ہے ہم سب اسی طرح بھاگیں گے پھر کب تک اپنے آپ کو بچاتے رہیں گے خدا وہ دن نہ لائیں لیکن حالات خطرناک ہیں پاکستان ہمارا ملک ہے اس ملک کو اس خطے کو اجتماعی دانش سے ایک دوسرے سے سیکھ کر ایک دوسرے کو سمجھ کر دوسرے کو سکھا کر اکھٹے مل کر ہم نے اس خطے کو بچانا ہے ہمارا طریقہ تو یہی ہے کہ ون مین ون ووٹ کو عزت دو پارلیمان کو طاقت کا سرچشمہ بناؤ جو جیتا ہے اسے حکمرانی کرنے کا موقع دو۔ اللہ ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو انصاف اور مسلمانی پہ ایمان رکھتے ہیں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم افواج پاکستان نہ ہم جاسوسی اداروں کے مخالف ہیں دنیا کا کوئی ملک دنیا کا کوئی قوم، ملک بغیر بہترین افواج اور جاسوسی اداروں کے نہیں چل سکتا ہیدنیا کی بڑی خطرناک فوجیں ہیں امریکہ کی فوج خطرناک فوج ہے روس کی فوج فلاں فوج وہ جس طرح گزارا کر رہے ہیں ہماری افواج کو بھی اس طرح گزارا کرنا ہوگا ہماری ایجنسیوں کو بھی اسی طرح گزارا کرنا پڑے گا جس طرح نواز کھوکھر بھائی نے کہا ہمیں اپنے عوام کے اجتماعی دانش پہ بھروسہ کرنا ہوگا۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کا پیغام ڈوبتے جہاز کا ایس او ایس میسج ہے ہمارا ساتھ دو ہمارے ساتھ اپنی فکر مشترک کرو اگر ہماری بات میں کوئی کمی بیشی ہے ہر پاکستانی کو یہ حق ہے کہ وہ ہمیں بتائے بیٹھنے کا وقت نہیں ہے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ جنگ کی بات ہورہی ہے افغانستان نے کبھی غلامی دیکھی نہیں ہے امن کبھی آزادی نہیں دیکھی۔ اقوام متحدہ کی جو سیکورٹی کونسل ہے ان کی سربراہی میں افغانستان اور ان کے تمام ہمسائیوں کی گول میز کانفرنس بلائی جائے۔
امریکہ ایران کشیدگی پورے خطے کو راکھ کر سکتی ہے،محمودخان اچکزئی

ٹیگز:
محمودخان اچکزئی
