پاکستان خصوصاً بلوچستان کو درپیش زرعی و ماحولیاتی چیلنجز کے تناظر میں گرین پاکستان انیشیٹو (GPI) ایک جامع اور انقلابی پروگرام کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ منصوبہ بنجر زمینوں کے سینکڑوں ایکڑ رقبے کو قابلِ کاشت بنانے، فوڈ سیکیورٹی کو مضبوط کرنے اور جدید زرعی نظام کو فروغ دینے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ اس کے تحت ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن، پانی کے استعمال میں 80 فیصد تک بہتری، اسمارٹ ایگری فارمز اور گرین ایگری مالز کا قیام، جدید ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال اور کسانوں کو معیاری بیج و کھاد کی فراہمی شامل ہے۔ مزید برآں، 10 ارب روپے کے مالیاتی پیکج، 50 فیصد سبسڈی پر گرین ٹریکٹر اسکیم، 28 ہزار ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن، 100 ڈیموں کی تعمیر، شجرکاری مہمات اور ساحلی علاقوں میں ماحولیاتی توازن کی بحالی جیسے اقدامات بھی اس پروگرام کا حصہ ہیں۔ وفاقی، صوبائی اور عسکری اداروں کے اشتراک سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ نہ صرف زرعی پیداوار بڑھانے بلکہ دیہی معیشت کو مضبوط کرنے، روزگار پیدا کرنے اور عوامی معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو رہا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت نے بھی گرین پاکستان انیشیٹو کو عملی جامہ پہنانے اور اس کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے خصوصی توجہ دی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے متعلقہ محکموں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی، ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے اور کسان دوست پالیسیوں کے نفاذ پر زور دیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایات کی روشنی میں زرعی اصلاحات، پانی کے بہتر انتظام، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور دیہی معیشت کی مضبوطی کو ترجیح دی جا رہی ہے، جس سے صوبے میں معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔
کوئٹہ میں 27 جنوری کو چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس پروگرام کو زرعی ترقی اور ماحولیاتی استحکام کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کارپوریٹ فارمنگ، جدید ٹیکنالوجی اور بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے ذریعے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہو گا۔ پانی کے مؤثر استعمال، قدرتی وسائل کے تحفظ اور طویل مدتی سبز معیشت کے قیام کو بھی اس منصوبے کی بنیادی ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔
گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت ڈیری ڈیویلپمنٹ، ایکوا کلچر، بلیو اکانومی اور سیاحت جیسے اہم شعبوں کو بھی ترقی دی جا رہی ہے، جن سے نہ صرف معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی بلکہ صوبے کے عوام کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ گرین ایگری مال اور اسمارٹ ایگری فارم کے ذریعے کسانوں کو جدید سہولیات، معیاری بیج، کھاد اور مشینری تک آسان رسائی فراہم کی جا رہی ہے۔ جدید آبپاشی نظام، ہائبرڈ بیج اور ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے پانی کی نمایاں بچت اور زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن بنایا جا رہا ہے جبکہ گندم، دالوں اور آئل سیڈز کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ زیتون کی کاشت کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ ملک میں غذائی خود کفالت حاصل ہو سکے۔
سبی میں ڈپٹی کمشنر میجر (ر) الیاس کبزئی کی زیر صدارت اجلاس میں گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت بلا سود قرضوں کی فراہمی پر غور کیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت عوام کو جانور فراہم کرنے کے لیے آسان اقساط پر قرضے دیے جائیں گے تاکہ وہ لائیو اسٹاک کے ذریعے اپنا کاروبار شروع کر سکیں اور معاشی استحکام حاصل کریں۔ لائیو اسٹاک افسران کو ہدایت کی گئی کہ ضلع میں موجود جانوروں کی اقسام اور تعداد سے متعلق جامع ڈیٹا فراہم کیا جائے تاکہ منصوبہ مؤثر انداز میں نافذ ہو سکے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔ اسی طرح دیگر اضلاع میں بھی ڈپٹی کمشنرز کی زیر صدارت ہونے والے اجلاسوں میں جی پی آئی کے تحت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔ ان اجلاسوں میں متعلقہ افسران نے دستیاب اراضی کی حالت، استعمال کے امکانات اور تقسیم کے طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی جبکہ شفافیت اور قواعد کی مکمل پاسداری پر زور دیا گیا تاکہ پروگرام کے اہداف مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکیں۔
مجموعی طور پر گرین پاکستان انیشیٹو بلوچستان کے لیے ایک جامع ترقیاتی ماڈل بن کر سامنے آیا ہے جو زرعی ترقی، ماحولیاتی تحفظ، پانی کے مؤثر استعمال، جدید ٹیکنالوجی اور معاشی خوشحالی کو یکجا کرتا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی قیادت، انتظامی مشینری کی مربوط کوششوں اور عوامی شمولیت کے ذریعے اگر اس پروگرام پر مؤثر عملدرآمد جاری رہا تو نہ صرف زرعی شعبہ ترقی کرے گا بلکہ بلوچستان میں پائیدار ترقی، روزگار اور خوشحال مستقبل کی بنیاد بھی مزید مضبوط ہو گی۔
متعلقہ خبریں
گوادرمیں حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف سامان کی فراہمی کا سلسلہ جاری
March 5, 2024
green gwadar
خضدار،لیویز نے ایک شخص کی نعش قبضے میں لے لی
May 11, 2025
green gwadar
انتخابات کے پر امن انعقاد سے عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف امن پسند اور باشعور ہیں ،عبدالحمید زہری
December 14, 2022
green gwadar
