کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان نیشنل پارٹی کے سابق سینیٹر ثنا بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ سال 2025 کے اختتام پر بلوچستان ایک نازک دوراہے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی غصہ شدید ہے، سیاسی اعتماد تقریبا ختم ہو چکا ہے، اور حکمرانی کا ڈھانچہ بدستور سیکیورٹی کے گرد گھوم رہا ہے۔ثنا بلوچ نے بیان میں مزید کہا کہ گرفتاریوں، دھماکوں، متنازع قوانین اور معاشی محرومیوں نے ایک ایسے صوبے کی تصویر پیش کی ہے جو وسائل سے مالا مال مگر اختیار سے محروم ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا 2026 میں بلوچستان کو مسلسل ایک سیکیورٹی مسئلہ سمجھ کر چلایا جائے گا، یا اسے ایک سیاسی معاشرے کے طور پر تسلیم کر کے مکالمہ، حقوق اور عزت دی جائے گی؟سابق سینیٹر نے کہا کہ جب تک اس سوال کا واضح جواب نہیں دیا جاتا، بدامنی اور بے چینی کا یہ سلسلہ رکنے کے آثار کم ہی نظر آتے ہیں، اور عوام کے مسائل اور عدم تحفظ مزید گہرے ہوتے رہیں گے۔
2025 کے اختتام پر بلوچستان نازک دوراہے پر کھڑا، بلوچستان وسائل سے مالا مال مگر اختیار سے محروم ہے ، ثنا بلوچ

ٹیگز:
ثنا بلوچ
