کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، جنرل سیکرٹری فریدخان اچکزئی، نائب صدر ڈاکٹر شبیر احمد شاہوانی، پریس سیکرٹری رحمت اللہ اچکزئی، جوائنٹ سیکرٹری میڈم زہرا ملغانی، فنانس سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر صاحبزادہ باز محمد کاکڑ اور ایگزیکٹیو ممبران ڈاکٹر محب اللہ کاکڑ، ڈاکٹر گل محمد بلوچ، فرہانہ عمر مگسی، مسعود مندوخیل نے ایک مشترکہ سخت مذمتی بیان میں وائس چانسلر جامعہ بلوچستان کی جانب سے اردلی الاؤنس کو غیرقانونی طور پر ختم کرنے کی اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ھوئے واضح کیا کہ پورے پاکستان کی یونیورسٹیوں میں پروفیسرز و ایسوسی ایٹ پروفیسرز سمیت آفیسران کو اردلی الاؤنس دیا جارہا ہیں لیکن بدقسمتی سے صرف ہمارے صوبے میں اساتذہ کرام اور آفیسران سے اردلی الاونس کو غیرقانونی طور پر ختم کیا گیا حالانکہ اس حوالے سے بلوچستان ہائی کورٹ میں ریٹائرڈ اساتذہ کرام و آفیسران نے ایک آئینی پٹیشن دائر کی تھی جس میں معزز ججز عدالت عالیہ نے حکم جاری کیا کہ اردلی الاونس کو جاری رکھا جائے لیکن اس کے باوجود یونیورسٹیوں کے اساتذہ کرام اور ملازمین سے اردلی الاونس کو غیرقانونی طور پر ختم کیا گیا جو عدالت عالیہ کے واضح احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں اس امر پر سخت افسوس کا اظہار کیا گیا کہ وائس چانسلر جامعہ بلوچستان نے اردلی الاونس کو ایسے وقت میں غیرقانونی طور پر ختم کیا جب سردیوں کی چھٹیاں جاری ہیں۔ بیان میں واضح کیا کہ اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے اکتوبر 2025 میں اپنے جائز مطالبات کے لئے احتجاج کیا جس کے بعد وائس چانسلر نے مسائل کے حل کیلئے پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق شاہوانی کی سربراہی میں ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی اس کمیٹی نے متفقہ طور پر اردلی الاونس سمیت دیگر منظور شدہ الاونسز کو جاری رکھنے کی سفارش کی تھی لیکن یونیورسٹی آف بلوچستان کے وائس چانسلر نے اپنی بنائی گئی اس اہم کمیٹی کے سفارشات کو بھی نہیں مانا۔ اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہر صورت میں اردلی الاونس سمیت
دیگر منظور شدہ الاؤنسز کو بحال کیا جائے گا
یونیورسٹیوں کے اساتذہ کرام اور ملازمین سے اردلی الاونس کو غیرقانونی طور پر ختم کیا گیا جو عدالت عالیہ کے واضح احکامات کی خلاف ورزی ہے، پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ

