اسلام آباد( ڈیلی گرین گوادر) اسلام: (دنیا نیوز) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ سرحد صرف امدادی کارروائی کے لیے کھولی، افغانستان سے دہشت گردی کی روک تھام پر پختہ یقین دہانی تک تجارت و راہداری کیلئے سرحدیں بند رہیں گی۔ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر انداربی نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں پاک افغان مذاکرات سے متعلق میڈیا رپورٹس دیکھیں، میرے پاس اس حوالے سے کوئی نئی معلومات نہیں ہیں۔دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ترکیہ صدر کی ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کرتا ہے، پاکستان ترکیہ کے ثالثی وفد کو خوش آمدید کہے گا اور پاکستان مذاکرات کیلئے بھی تیار ہے، ترکیہ وفد کے نہ آنے کی وجہ شیڈولنگ یا پھر طالبان کی طرف سے تعاون کی عدم دستیابی ہوسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے افغانستان کے ساتھ سرحدیں موجودہ صورتحال کی وجہ سے بند کی ہیں اور افغانستان نے اب اپنی جانب سرحدیں بند کی ہیں، اس حوالے سے اب وہ ہی جواب دے سکتے ہیں، ہم نے فی الوقت سرحدیں امدادی کارروائی کیلئے ہی کھولی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کرغزستان کے صدر نے پاکستان کا دورہ کیا، کرغز صدر اور وزیراعظم نے وفد کی سطح پر ملاقاتیں کی، دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق ہوا، دونوں ممالک تجارتی حجم سال 28-2027 تک 200 ملین تک پہچانے پر اتفاق کیا، کرغز صدر کے دورے پر 15 ایم او یوز پر دستخط ہوئے، کرغز صدر نے بزنس فورم سے خطاب کیا۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے سرحد کی بندش ہم نے اپنی حفاظت کے لیے کی ہے، ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے شہری دہشت گردی کا نشانہ بنیں، بارڈر اسی لیے بند ہے اور سرحد اس وقت تک بند رہے گی جب تک افغانستان کی جانب سے پختہ یقین دہانی نہ مل جائے، ہمیں یقین دہائی کرائی جائے کہ دہشت گرد اور پرتشدد عناصر پاکستان میں داخل نہیں ہوں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ صرف ٹی ٹی پی نہیں، افغان شہری بھی پاکستان میں سنگین جرائم میں ملوث رہے ہیں، سرحد کی بندش کے تناظر کو اسی حقیقت میں سمجھا جائے، تجارتی گزر گاہیں اور بارڈر کراسنگ بدستور بند ہیں۔
ٹی ٹی پی نہیں، افغان شہری بھی پاکستان میں سنگین جرائم میں ملوث رہے ہیں، طاہر انداربی

ٹیگز:
طاہر انداربی
