چمن(ڈیلی گرین گوادر)پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی کے باعث چمن بارڈر جمعہ کے روز پانچویں دن بھی مکمل طور پر بند رہا۔ سرحد کی بندش کے نتیجے میں دونوں جانب تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں، جبکہ ہزاروں افراد، ٹرک اور مال بردار گاڑیاں پھنس کر رہ گئی ہیں۔تفصیلات کے مطابق، سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر بابِ دوستی کو بدستور بند رکھا گیا ہے جس کے باعث درآمد و برآمد کا عمل مکمل طور پر رک چکا ہے۔ سرحد بندش سے تاجروں کو کروڑوں روپے کے نقصانات کا سامنا ہے جبکہ مزدور طبقہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق، چمن بارڈر کے ذریعے روزانہ سینکڑوں ٹرک پھل، سبزیاں اور ضروری اشیا کی ترسیل کرتے تھے، تاہم موجودہ صورتحال میں درجنوں ٹن مال خراب ہو کر ضائع ہو رہا ہے۔ تاجروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو ہزاروں خاندان فاقہ کشی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ادھر وفاقی حکومت کی جانب سے غیر قانونی افغان مہاجرین کی واپسی کی پالیسی کے تحت جمعہ کے روز مزید 400 افغان مہاجرین اپنے وطن واپس روانہ ہو گئے۔ لیویز اور ایف سی ذرائع کے مطابق، اب تک ہزاروں افغان شہری چمن کے راستے افغانستان لوٹ چکے ہیں۔ حکام کے مطابق، واپسی کے دوران مہاجرین کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی باقاعدہ رجسٹریشن، اسکریننگ اور تصدیق کے بعد انہیں سرحد پار کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔مقامی کاروباری حلقوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ سفارتی سطح پر فوری اقدامات کر کے بارڈر کھولا جائے تاکہ تجارتی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر کی مسلسل بندش نہ صرف معاشی بدحالی میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ سرحدی علاقوں میں انسانی بحران کی صورت بھی اختیار کر رہی ہے، جس پر حکومت کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
پاک افغان کشیدگی برقرار، چمن بارڈر پانچویں روز بھی بند

ٹیگز:
پاک
