چمن(ڈیلی گرین گوادر)چمن پاک افغان بارڈر کی مسلسل بندش سے دونوں ممالک کے تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے، فریش فروٹ کے سیزن میں سینکڑوں مال بردار ٹرک سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال پر چمن کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس حاجی اختر محمد، حاجی جمال شاہ، شفیق آغا، حاجی باقی، حاجی ولی محمد و دیگر نے چمن پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گہری تشویش کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کے حکام سے مطالبہ کیا کہ جنگ کے بجائے مذاکرات اور ٹیبل ٹاک کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے۔تاجر رہنماں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دو برادر اسلامی ملک ہیں، جن کا امن، خوشحالی اور تجارت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر پاکستان خوشحال ہوگا تو افغانستان میں بھی امن و استحکام آئے گا۔ پاکستان ہمیشہ مشکل وقت میں افغانستان کے عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے، اس لیے افغان عبوری حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ باہمی تعلقات بہتر بنائے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دے۔پریس کانفرنس میں مقررین نے بھارت کے منفی کردار اور مداخلت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دونوں برادر ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کر کے تعلقات خراب کرنے کی سازش کر رہا ہے، لیکن وہ اپنے ناپاک مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔ تاجروں نے کہا کہ دونوں ممالک کے کاروباری طبقے کو چاہیے کہ وہ بھارت کے عزائم ناکام بناتے ہوئے خطے کے امن اور استحکام کے لیے متحد ہو جائیں۔تاجر برادری نے کہا کہ فریش فروٹ کے سیزن میں روزانہ سینکڑوں ٹرک سرحد کے آر پار تجارت کرتے ہیں، جن سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے، مگر بارڈر کی بندش سے یہ ساری تجارت مفلوج ہو چکی ہے۔ اگر بارڈر فوری طور پر نہ کھولا گیا تو خراب ہونے والی اشیا ضائع ہو جائیں گی اور دونوں ممالک کے تاجروں کو ناقابلِ تلافی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔تاجر رہنماں نے بتایا کہ افغان تاجروں سے ان کے رابطے مسلسل جاری ہیں، وہ بھی تجارت کے تسلسل اور امن کے خواہاں ہیں۔ بھارت کی سازشوں کے نتیجے میں پہلے ہی افغانستان ٹرانزٹ متاثر ہوا ہے، جس سے اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ موجودہ صورتحال برقرار رہی تو پاک افغان تجارت مزید زوال کا شکار ہو گی۔پریس کانفرنس کے آخر میں تاجروں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے حکام کو چاہیے کہ وہ سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کریں تاکہ تجارت، امن، روزگار اور بھائی چارے کا تسلسل برقرار رہ سکے۔
چمن بارڈر کی بندش سے دونوں ممالک کے تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان، فریش فروٹ ضائع ہونے کا خدشہ

ٹیگز:
چمن بارڈر
