کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے ہنہ اوڑک میں اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں فورسز کی جانب سے نہتے عوام پر شیلنگ، لاٹھی چارج اور فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے کے قبائلی عوام پر انسدادِ دہشتگردی کے دفعات کے تحت جعلی مقدمات درج کرنا انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔بیان کے مطابق، گزشتہ روز مسلط کردہ صوبائی حکومت اور اس کے انتظامی افسران نے بھاری فورسز اور مشینری کے ساتھ کارروائی کے دوران قبائلی عمائدین، علمائے کرام اور علاقائی کمیٹی کے اراکین پر حملہ کیا، جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔پارٹی نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر نے غیر اخلاقی رویہ اختیار کرتے ہوئے زبردستی نئے ڈیم منصوبے کے نام پر مقامی آبادی کو بے دخل کرنے اور زمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ عوام کی جانب سے صرف تین دن کی مہلت مانگی گئی تھی، مگر اس کے جواب میں ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ ہنہ اوڑک کے عوام پہلے ہی اپنی زمینوں اور باغات پر غیر قانونی قبضوں سے پریشان ہیں، اور اب انہیں ان کی آبائی سرزمین سے محروم کرنے کی نئی سازش رچائی جا رہی ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ مسلط کردہ صوبائی حکومت فورا اس واقعے میں ملوث اسسٹنٹ کمشنر کے خلاف محکمانہ کارروائی کرے اور ایک اعلی سطحی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے تاکہ غیر جانبدارانہ تحقیقات ہو سکیں۔پارٹی نے سول سوسائٹی اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ ہنہ اوڑک کے عوام پر ہونے والے مظالم کا نوٹس لیں اور ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں۔
ہنہ اوڑک میں فورسز کا عوام پر شیلنگ، لاٹھی چارج اور فائرنگ

ٹیگز:
ہنہ اوڑک
