کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان ہائی کورٹ نے سوئی سدرن گیس کمپنی کو اوور بلنگ سے روک دیا اور ہدایت کی ہے کہ اوور بلنگ کے تمام کیسز کی جانچ پڑتال کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر کمپنی نے دوبارہ اوور بلنگ کی تو ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔چیف جسٹس جناب روزی خان بریچ اور جسٹس جناب سردار احمد حلیمی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے یہ احکامات سماعت کے دوران دیے، جس میں درخواست گزار سید نذیر آغا ایڈووکیٹ نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے جانب سے جاری کیے گئے بارہ لاکھ روپے سے زائد کے بل کو اوور بلنگ قرار دیا تھا۔درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بلوچستان میں گیس لوڈشیڈنگ بدترین صورتحال اختیار کرچکی ہے، جبکہ گیس صرف کوئٹہ شہر تک محدود ہے جہاں کوئی صنعت یا فیکٹری بھی موجود نہیں۔ انہوں نے مقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت بلوچستان کو گیس کی فراہمی میں ترجیح دی جانی چاہیے، لیکن سوئی سدرن گیس کمپنی کا عمل آئین کی صریح خلاف ورزی ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں گیس کی کھپت کی مکمل رپورٹ پیش کرے۔ ساتھ ہی جنرل منیجر سوئی سدرن گیس کمپنی کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہو کر جواب اور حلف نامہ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔مزید برآں چیف سیکرٹری بلوچستان اور پرنسپل سیکرٹری وزیراعلی کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا گیا ہے تاکہ وضاحت دی جا سکے کہ صوبے کے اس سنگین مسئلے کو وفاقی حکومت اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے ساتھ کیوں نہیں اٹھایا گیا۔ بصورت دیگر وزیراعلی بلوچستان کو آئندہ پیشی پر خود عدالت میں حاضر ہونا ہوگا۔کیس کی مزید سماعت ایک ہفتے بعد ہوگی۔
بلوچستان ہائی کورٹ کا سوئی سدرن کو اوور بلنگ سے روکنے کا حکم

ٹیگز:
بلوچستان
