حب (ڈیلی گرین گوادر)ایران کی جانب پیدل روانہ ہونے والے زائرین کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے بلوچستان پولیس نے سخت حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے سندھ اور بلوچستان کے سنگم پر حب ندی پل پر ناکہ بندی کردی۔ پولیس اور اے ٹی ایف کی بھاری نفری تعینات، داخلی راستے بند کر دیے گئے۔ ڈپٹی کمشنر حب نثار احمد لانگو، ایس ایس پی حب سید فاضل شاہ، ڈی ایس پی حب امام بخش بلوچ، ایس ایچ اوز بیروٹ، سٹی، گڈانی، اور ساکران موقع پر موجود،زائرین کے اس لانگ مارچ کی قیادت شیعہ تنظیموں کے نمائندے کر رہے ہیں جنہوں نے حکومت کی جانب سے زمینی راستے سے ایران و عراق زیارات پر عائد پابندی کے خلاف احتجاجا مارچ کا اعلان کیا۔ ان کا مقف ہے کہ انہیں اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی سے روکنا بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ مارچ میں شریک افراد پرامن طور پر کراچی سے روانہ ہوئے اور ان کا مقصد ایرانی بارڈر تفتان تک پیدل سفر کرنا ہے ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر اس سال اربعین کے موقع پر زائرین کو سڑک کے ذریعے ایران اور عراق جانے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔ اس حکومتی فیصلے کے خلاف زائرین نے “زیارت ہمارا حق” کے نعرے کے ساتھ لانگ مارچ شروع کیا جس میں مرد، خواتین، بزرگ اور نوجوان شامل ہیں پولیس حکام کے مطابق زائرین کو حب ندی پل پر روکا گیا اور ان سے بات چیت جاری ہے تاکہ پرامن طریقے سے مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ سیکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی غیر قانونی پیش قدمی کو روکنے کے پابند ہیں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں زائرین نے بھی پرامن احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی صورت اپنے مذہبی فریضے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ایران جانے والے زائرین کے لانگ مارچ کو بلوچستان پولیس نے حب ندی پل پر روک دیا، راستہ سیل، بھاری نفری تعینات

ٹیگز:
ایران
