کوئٹہ نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مطالبہ کیا ہے کہ چیئرمین پبلک سروس کمیشن کی نئی تقرری ایک ایماندار،قابل ،دیانتدار، باصلاحیت اور غیرجانبدار شخصیت سے کی جائے نہ کہ کسی فارم 47 والے یا سفارشی سے ،انہوں نے کہا کہ پبلک سروس کمیشن ایک خودمختار، حساس اور باوقار ادارہ ہے جس کی ساکھ اور شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے،ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے واضح کیا کہ سیاسی بنیادوں یا کسی مخصوص حلقے کو نوازنے کے لیے کی گئی تقرری نوجوانوں کے اعتماد کو مجروح اور ادارے کی غیرجانبداری کو مشکوک بنا دے گی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے اپنے دور حکومت میں کمیشن کو سیاست سے پاک رکھا اور میرٹ کو ترجیح دی جس کی واضح مثال یہ ہے کہ پارٹی نے سیاسی مخالفت اور دبا کے باوجود جسٹس (ر)کوہلی کو چیئرمین مقرر کیا جنہوں نے شفاف طریقے سے امتحانات اور انٹرویوز کا انعقاد کیا جس کے نتیجے میں غریب اور متوسط طبقے کے سینکڑوں نوجوان اعلی سرکاری عہدوں پر فائز ہوئیانہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر نئی تقرری میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت یا غیر شفاف طریقہ اپنایا گیا تو نیشنل پارٹی اس کی سخت مخالفت کرے گی اور ہر آئینی و جمہوری فورم پر آواز بلند کرے گی۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان پہلے ہی معاشی و تعلیمی لحاظ سے پسماندہ ہیں ان کے ساتھ مزید ناانصافی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
پبلک سروس کمیشن کی نئی تقرریوں میں انصافی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی ،ڈاکٹر عبدالمالک

