زیارت :پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ غیور پشتون افغان ملت کو درپیش سنگین مسائل، مشکلات، دہشتگردی اور بے روزگاری کے خاتمے، نیز ملی نجات کی تحریک کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ایک مربوط پشتون قومی ایجنڈے کی اشد ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی تمام ملت?پال سیاسی جماعتوں اور تحریکوں کے ساتھ مل کر چلنے کے لیے تیار ہے، اور بطور کارکن، اس متحدہ ملی محاذ میں کام کرنے کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع زیارت کے خسنوب علاقائی یونٹ کے زیر اہتمام زرندہ بازار میں شہید عبداللہ پانیزئی کے نام سے منسوب ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جب پارٹی رہنما علاقے میں پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا، ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور انہیں روایتی پشتون دستار پہنائی گئی۔عوامی اجتماع میں درجنوں سیاسی کارکنوں نے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اجتماع سے پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، مرکزی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر صمد پانیزئی، سپریم کورٹ کے وکیل اور پارٹی رہنما عبدالمصور خان ترین ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا۔ سٹیج سیکریٹری کے فرائض نسیم خان نے انجام دیے، جبکہ تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت نزاکت اللہ پانیزئی نے حاصل کی۔پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ آج کا یہ عوامی اجتماع پارٹی کے شہید، عبداللہ پانیزئی کے نام سے منسوب ہے۔ شہید عبداللہ پانیزئی نے ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی چوتھی برسی کے موقع پر دن رات محنت کی، اور پارٹی کے جھنڈے کو بجلی کے کھمبے پر نصب کرنے کے دوران کرنٹ لگنے سے شہید ہوگئے۔ اْن کی یہ قربانی اْن کے جذبہ ملی اور شہید عثمان خان کاکڑ سے والہانہ محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے، جسے پارٹی ہمیشہ یاد رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں سب سے زیادہ متاثر اور محروم قوم غیور پشتون عوام ہے، جو ایک طرف دہشتگردی اور انتہا پسندی کا نشانہ ہے، جبکہ دوسری طرف ان کے قیمتی قدرتی وسائل کو بین الاقوامی کمپنیوں کے ذریعے لوٹا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے صوبائی اسمبلی سے “مائنز اینڈ منرلز ایکٹ” منظور کروایا گیا اور 8 و 9 اپریل 2025 کو اسلام آباد میں بین الاقوامی مائنز و منرلز سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں دنیا بھر سے مختلف کمپنیاں آکر ہمارے معدنی وسائل کے حصول کے معاہدے کر گئیں۔انہوں نے کہا کہ ایک منظم منصوبے کے تحت پشتونخوا سرزمین کے مختلف اضلاع میں لاکھوں ایکڑ اراضی الاٹ کی جا رہی ہے، جس کا واحد مقصد ان بیش بہا وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔ ایسی صورتحال میں جب ایک طرف ملت دہشتگردی اور انتہا پسندی کا شکار ہو، اور دوسری جانب ان کے وسائل بیدردی سے لوٹے جا رہے ہوں، تو پشتون سیاسی جماعتوں اور تحریکوں کا اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ ایک متحدہ پشتون ملی محاذ تشکیل دیا جائے، اور پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اس مقصد کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہے۔ ہمیں ہر طرح کی ذاتی خواہش اور عہدے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بطور کارکن اس جدوجہد میں شامل ہونا ہوگا۔خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ زیارت میں اس وقت ایک لاکھ 77 ہزار ایکڑ سے زائد زمین الاٹ کی جا چکی ہے۔ اب وقت الزام تراشیوں کا نہیں بلکہ باہمی اتحاد سے اپنی قیمتی زمینوں اور جنگلات کے تحفظ کا ہے۔ زیارت پشتونخوا وطن کی ایک ایسی وادی ہے جو سیر و سیاحت کے حوالے سے انتہائی اہم مقام رکھتی ہے، جہاں پورے ملک سے ہزاروں سیاح آتے ہیں، لیکن افسوس ہے کہ کوئٹہ سے زیارت تک سڑک کی حالت ابتر ہے، بجلی کی لوڈشیڈنگ مسلسل جاری ہے اور گیس کی فراہمی بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان مسائل کے باعث عوام قیمتی صنوبر کے درخت کاٹنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جس سے زیارت کے نایاب صنوبر کے جنگلات کا تقریباً 70 فیصد حصہ تباہ ہو چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ زیارت میں تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات ناپید ہیں۔ اجتماع میں پارٹی کے سینئر سیکریٹری سید قادر آغا ایڈووکیٹ، صوبائی سیکریٹری فقیر خوشحال کاسی، صوبائی ڈپٹی سیکریٹریز فیاض خان، احمد خان لونی، نعمت جلالزئی، محمود ریاض، غنی فدائی، سلیمان بازئی سمیت دیگر رہنما، علاقے کے معتبرین، قبائلی عمائدین اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
ملک میں سب سے زیادہ متاثر اور محروم قوم غیور پشتون عوام ہے، خوشحال کاکڑ

