کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے حکمران اور اسٹیبلشمنٹ بلوچستان میں سیاسی، عسکری اور معاشی مداخلت بند کریں۔ 30 لاکھ افراد کو روزگار دینے کے لیے بلوچستان کے بارڈر فوری کھولے جائیں، لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے، سیاسی آزادیوں پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں اور سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔وہ 25 جولائی کے لانگ مارچ کے سلسلے میں عالمو چوک ائیرپورٹ روڈ پر قائم آگہی کیمپ میں میڈیا اور کارکنان سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی ضلع کوئٹہ کے امیر عبدالنعیم رند، صوبائی نائب امیر مولانا حافظ نور علی، جمیل احمد مشوانی، مولانا عبدالحمید منصوری اور عبدالولی شاکر سمیت دیگر رہنما اور کارکنان بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ ہم ہر قوم کے مظلوم افراد پر ہونے والے ظلم کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، ظالم چاہے کوئی بھی ہو ہم اس کے خلاف ہیں۔ پاکستان میں صرف دو طبقے رہتے ہیں: ظالم اور مظلوم۔ ہم پنجاب جا کر پنجاب کے عوام کو بتائیں گے کہ بلوچستان میں ہمارے ساتھ جو ظلم ہو رہا ہے اس میں اسلام آباد کے حکمران اور مقتدر قوتیں شریک ہیں۔انہوں نے ایف سی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ 80 ارب روپے کے باوجود امن قائم کرنے میں ناکام ہیں، سیکیورٹی ادارے امن کی بحالی کے بجائے کاروبار میں مصروف ہیں۔ بارڈرز کو بند کر کے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جبکہ ججز، جرنیل اور حکمران کھربوں کی کرپشن میں ملوث ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حکومتی رٹ کا نام و نشان نہیں، صرف دھمکیاں اور بیانات سے عوام کو بہلایا جا رہا ہے۔ منشیات کی آزادانہ فروخت جاری ہے جبکہ قانونی ایرانی پٹرول پر پابندی عائد ہے۔ حقیقی مجرم حکمران اور سیکورٹی ادارے خود ہیں۔ ہم اندھے بہرے حکمرانوں کے سامنے اپنے حقوق کے لیے جا رہے ہیں، شاید انہیں کچھ رحم آجائے۔مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ پاکستان کو لوٹنے والے محب وطن جبکہ آئینی جدوجہد کرنے والے غدار قرار دیے جا رہے ہیں۔ ہمارا جرم صرف یہ ہے کہ ہم جرنیلوں کی آمریت کو تسلیم نہیں کرتے۔
اسلام آباد کے حکمران اور اسٹیبلشمنٹ بلوچستان میں مداخلت بند کریں، مولانا ہدایت الرحمان

