کے عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مصری چینل ‘الغد’ کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ایران-اسرائیل جنگ بندی کے بعد اب غزہ ایک بار پھر خطے کی ترجیح بن چکا ہے۔بشارہ کے مطابق، اصل اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ آیا عارضی جنگ بندی کے اختتام پر فریقین خودبخود مستقل جنگ بندی پر منتقل ہوں یا نہیں۔ حماس اس کی خودکار توسیع چاہتی ہے۔بشارہ بہبہ نے بتایا کہ اس سلسلے میں حماس کے رہنما غازی حمد سے بھی ملاقات ہو چکی ہے۔ جنگ بندی کے معاہدے کے علاوہ انسانی امداد کی فراہمی میں تیزی لانا بھی مذاکرات کا ایک اہم نکتہ ہے، کیونکہ فی الوقت روزانہ صرف 60 ٹرک غزہ میں داخل ہو رہے ہیں، جو اقوام متحدہ کے مطابق ناکافی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مختلف تجاویز زیر غور ہیں، کچھ مکمل یرغمالیوں کی رہائی پر مبنی ہیں جبکہ کچھ جزوی رہائی کے فارمولے پر ہیں۔
غزہ میں جنگ بندی چند دنوں میں متوقع،ٹرمپ کے ثالث کا دعویٰ

