چاغی(یو این اے )بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے چہتر میں مضر صحت کھانے کے باعث 50 سے زائد طلبا کی حالت غیر ہو گئی، جن میں سے 6 بچوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ متاثرہ بچوں کو فوری طور پر دالبندین کے پرنس فہد ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے مکمل طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔پرنس فہد ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر لونگ خان کے مطابق اب تک 45 بچوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا ہے، جن میں 6 کو تشویشناک حالت میں ایمرجنسی وارڈ منتقل کیا گیا۔ واقعے کی اطلاع پر ڈپٹی کمشنر چاغی عطا المنیم بلوچ نے متعلقہ مدرسے کا ہنگامی دورہ کیا اور واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نظام رحیم بلوچ، ڈی ایچ او، اور اسپتال انتظامیہ بھی صورتحال کی نگرانی میں مصروف ہیں۔ حکام کے مطابق متاثرہ کھانے کے نمونے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں اور مکمل رپورٹ کا انتظار ہے، جس سے واقعے کی وجوہات سامنے آئیں گی۔ڈپٹی کمشنر چاغی نے میڈیا کو بتایا کہ شدید متاثرہ بچوں کو ضرورت پڑنے پر کوئٹہ ریفر کیا جائے گا، اور علاج معالجے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ واقعے کے بعد اسپتال عملے کو ہائی الرٹ کر دیا گیا اور تمام ڈاکٹرز کو فوری طور پر طلب کر لیا گیا۔دوسری جانب سابق چیئرمین سینیٹ و رکن صوبائی اسمبلی حاجی محمد صادق سنجرانی اور سابق مشیر میر اعجاز خان سنجرانی نے بھی معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بچوں کو ہر ممکن طبی سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی، جبکہ خان پینل کے مقامی نمائندے رات گئے ہسپتال پہنچ کر متاثرین کی مدد میں مصروف رہے۔ مزید پیش رفت کا انتظار ہے اور تحقیقات کی رپورٹ آنے پر تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
چاغی ،مضر صحت کھانے سے 50 سے زائد طلبا کی حالت غیر، 6کی حالت تشویشناک

