کوئٹہ(یو این اے )جمعیت علما اسلام بلوچستان کے امیر وسینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہاہے کہ دینی مدارس اسلام کے قلعے، دین کی پناہ گاہیں اور اشاعت دین کیساتھ لاکھوں طلبا وطالبات کو بلامعاوضہ تعلیم وتربیت کے زیور سے آراستہ کررہی ہیں ،انگریز نے برصغیر میں اپنے تسلط اور قبضہ کیلئے دینی اقدار اور شعائر اسلام مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن یہی مدارس اور علما ان کی راہ میں رکاوٹ رہے ،پاکستان اسلامی ملک لیکن کم عمر شادی کاقانون آئین پاکستان واسلام سے متصادم ہے ،مائنز اینڈ منرلز کے بل پر جمعیت کا موقف واضح ہے ،پی ڈی ایم حکومت میں بھی خودمختاری کاتحفظ کیاتھا آئندہ بھی جاری رکھیںگے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے مدرسہ عربیہ اصلاح العقائد کے سالانہ دستار فضیلت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر حافظ محمد یوسف ودیگر بھی موجود تھے ۔مولاناعبدالواسع نے کہاکہ قرآن و سنت اسلامی تعلیمات کا منبع ہیں اور دینی مدارس کا مقصد اسلامی تعلیمات کے ماہرین، قرآن و سنت پر گہری نگاہ رکھنے والے علما تیار کرنا اور علوم اسلامیہ میں دسترس رکھنے والے ایسے رجال کار پیدا کرنا جو مسلم معاشرہ کا اسلام سے ناطہ جوڑیں اور دینی و دنیاوی امور میں راہنمائی اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے تحفظ کا فریضہ انجام دیں۔انہوں نے کہاکہ دینی مدارس جہاں اسلام کے قلعے، ہدایت کے سر چشمے، دین کی پناہ گاہیں اور اشاعت دین کا بہت بڑا ذریعہ ہیں، وہاں یہ دنیا کی سب سے بڑی این جی اوز بھی ہیں جو لاکھوں طلبہ وطالبات کو بلا معاوضہ تعلیم وتربیت کے زیور سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں رہائش وخوراک اور مفت طبی سہولیات بھی فراہم کرتے ہیں، ان دینی مدارس نے ہر دور میں تمام ترمصائب و مشکلات ، پابندیوں اور مخالفتوں کے باوجود کسی نہ کسی صورت اور شکل میں اپنا وجود اور مقام برقرار رکھتے ہوئے اسلام کے تحفظ اور اس کی بقا میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انگریز نے برصغیر میں اپنے تسلط اور قبضہ کیلیے دینی اقدار اور شعائر اسلام مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن اس کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی دینی مدارس اور اس میں پڑھنے پڑھانے والے خرقہ پوش اور بوریا نشین طلبائے دین اور علمائے کرام ہی تھے، مولاناعبدالواسع نے واضح کیاکہ جمعیت علما اسلام نے صوبائی خودمختاری پر ہمیشہ واضح موقف اپنایاہے ،معدنیات کے حوالے سے پی ڈی ایم کی حکومت ہو یا پھر این ایف سی ایوارڈ ،جمعیت کا کردارواضح رہاہے ،پی ڈی ایم حکومت میں جمعیت کے کابینہ میں احتجاج پر قومی اسمبلی اورسینیٹ سے مائنز بل واپس لیاگیاتھا ،اسی طرح اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں آئین اور اسلام سے متصادم قوانین کسی صورت قبول نہیں کرینگے ،18سال سے کم عمر سے متعلق قانون پر اسلامی نظریاتی کونسل اور پاکستان کے جید علما اکرام کو شامل نہیں کیاگیاہے جو افسوسناک ہے ،جمعیت اس کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی ۔
کم عمر شادی کاقانون آئین پاکستان واسلام سے متصادم ہے ،مولانا واسع

